خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 627
خطبات مسرور جلد 15 627 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 دسمبر 2017 کہ بڑی عمر کی اونٹنی لے لیں۔اس پر حضرت اُبی نے کہا پھر تم خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہو کر بات کر لو اور اونٹنی پیش کر دو۔چنانچہ وہ صحابی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوئے اور تمام بات بیان کی اور کہا یہ بڑی اونٹنی قبول فرمائیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قربانی پر بہت خوشی کا اظہار کیا اور فرمایا اگر تم دلی خوشی سے یہ اونٹنی دینا چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بہترین اجر دے گا۔(مسنداحمد بن حنبل جلد 7 صفحہ 139-140 حدیث 21603 مسند ابی بن کعب مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) حضرت ابی بڑے علمی آدمی بھی تھے۔قرآن کریم کا بھی ان میں خوب علم تھا۔ان کی مجالس میں خوب علمی باتیں ہوتی تھیں۔غرض کہ ان کا ایک مضبوط مقام تھا اور ان کا بلند مقام تھا اور ان صحابہ کے بلند مقام ہی ہیں جن کا فیض آج بھی جاری ہے اور ہم ان کی باتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ کیا بات تھی کہ جس کے ہونے سے صحابہ نے اس قدر صدق دکھایا اور انہوں نے نہ صرف بُت پرستی اور مخلوق پرستی ہی سے منہ موڑا بلکہ در حقیقت ان کے اندر سے دنیا کی طلب ہی مسلوب ہو گئی اور وہ خدا کو دیکھنے لگ گئے۔وہ نہایت سرگرمی سے خدا تعالیٰ کی راہ میں ایسے فدا تھے کہ گویا ہر ایک ان میں سے ابراہیم تھا۔انہوں نے کامل اخلاص سے خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر کرنے کے لئے وہ کام کئے جس کی نظیر بعد اس کے کبھی پیدا نہیں ہوئی اور خوشی سے دین کی راہ میں ذبح ہونا قبول کیا۔بلکہ بعض صحابہ نے جو یکانت شہادت نہ پائی تو ان کو خیال گزرا کہ شاید ہمارے صدق میں کچھ کسر ہے۔جیسے کہ اس آیت میں اشارہ ہے مِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ ينتظرُ (الاحزاب:24)۔یعنی بعض تو شہید ہو چکے تھے اور بعض منتظر تھے کہ کب " ان کو " شہادت نصیب ہو۔" آپ فرماتے ہیں کہ اب دیکھنا چاہئے کہ کیا ان لوگوں کو دوسروں کی طرح حوائج نہ تھے اور اولاد کی محبت اور دوسرے تعلقات نہ تھے ؟ مگر اس کشش نے ان کو ایسا مستانہ بنادیا تھا کہ دین کو ہر ایک شئے پر مقدم کیا ہوا تھا۔" ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 137-138) پھر آپ فرماتے ہیں: "مکہ میں بیٹھ کر جو مومنین قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کی تھی جس حمایت میں کوئی دوسری قوم کا آدمی ان کے ساتھ شریک نہیں تھا الا شاذ و نادر۔وہ صرف ایمانی قوت اور عرفانی طاقت کی حمایت تھی۔نہ کوئی تلوار میان سے نکالی گئی تھی اور نہ کوئی نیزہ ہاتھ میں پکڑا گیا تھا بلکہ ان کو جسمانی مقابلہ کرنے سے سخت ممانعت تھی۔صرف قوت ایمانی اور نور عرفان کے چمکدار ہتھیار اور ان ہتھیاروں کے جوہر جو صبر اور استقامت اور محبت اور اخلاص اور وفا اور معارف الہیہ اور حقائق عالیہ دینیہ ان کے پاس موجود تھے لوگوں کو دکھلاتے تھے۔گالیاں سنتے تھے۔جان کی دھمکیاں دے کر ڈرائے جاتے تھے۔اور سب طرح کی ذلتیں دیکھتے تھے پر کچھ ایسے نقشیر عشق میں مدہوش تھے کہ کسی خرابی کی پرواہ نہیں رکھتے تھے اور کسی بلا سے ہر اساں نہیں ہوتے تھے۔دنیوی زندگی کے رُو سے اُس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیار کھا تھا جس کی توقع سے وہ اپنی جانوں