خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 626 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 626

خطبات مسرور جلد 15 626 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 دسمبر 2017 خدمت میں حاضر ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال اور اعلان کرو۔چنانچہ مزید ایک سال اعلان کے بعد جب کوئی نہ آیا تو پھر حاضر ہو کر عرض کی کہ سال گزر گیا ہے کوئی نہیں آیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال اور اعلان کرو۔تیسرے سال اعلان کے باوجود جب کوئی نہیں آیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے چوتھی مرتبہ پوچھا۔آپ نے فرمایا کہ اب بیشک یہ دینار اپنے استعمال میں لے آؤ۔(صحيح البخارى كتاب فى اللقطه باب هل أخذ اللقطة۔۔۔الخ حديث 2437) پس یہ ہیں تقویٰ کے معیار۔ایک دفعہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یار سول اللہ میں جب دعا کرتا ہوں تو میر ادل کرتا ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ آپ کی ذات پر درود بھیجوں۔اگر دعا کا چوتھا حصہ میں درود پڑھا کروں تو ٹھیک ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جتنا تمہارا جی چاہے درود پڑھ لو۔چاہو تو اس سے بھی زیادہ پڑھ سکتے ہو۔اس پر حضرت اُبی نے عرض کی کہ اگر آدھا وقت درود پڑھا کروں تو ٹھیک ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنا چاہو پڑھو۔اس سے بھی زیادہ پڑھو تو اور اچھا ہے۔حضرت ابی بن کعب نے عرض کی کہ اگر دو تہائی حصہ درود میں گزاروں تو ٹھیک ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنا چاہو پڑھو۔اس سے بھی زیادہ پڑھ سکتے ہو تو پڑھو۔تب حضرت اُبی نے اپنی دلی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یارسول اللہ ! میر اتو دل کرتا ہے کہ میں اپنی دعا میں صرف درود ہی پڑھتار ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اگر تم اپنی دعاؤں کا زیادہ حصہ درود پڑھتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے ہم و غم کا خود متکفل ہو جائے گا۔تمہارے گناہ بخشے جائیں گے اور یہ بات خدا تعالیٰ کے نزدیک تمہارے بلند درجات کا موجب ہو گی۔(سنن الترمذى ابواب صفة القيامة باب فى الترغيب بذكر الله۔۔۔حدیث 2457) آپ کو قرآن شریف سے بھی بہت محبت تھی۔آپ کثرت سے تلاوت کرتے تھے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحہ 260 ومن بني عمرو۔۔۔ابي بن كعب مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) آپ کی امانت و دیانت بھی کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ آپ کو زکوۃ وصول کرنے کے لئے مقرر فرمایا اور مدینہ کے قریبی قبائل بنی عذرہ اور بنی سعد میں بھجوایا۔کہتے ہیں کہ میں نے وہاں جا کر زکوۃ وصول کی۔واپسی پر مدینہ کے قریب ایک ایسے مخلص شخص سے واسطہ پڑا جس کے تمام اونٹوں پر ایک ایک سالہ اونٹنی زکوۃ بنتی تھی۔اس کے پاس اونٹ تھے اور ان کی زکوۃ ایک ایک سالہ اونٹنی بنتی تھی۔میں نے اسے کہا کہ ایک سالہ اونٹنی زکوۃ دے دو۔اس نے کہا کہ ایک سالہ اونٹنی لے کر آپ کیا کریں گے ؟ اس پر تو نہ سوار ہوا جا سکتا ہے نہ بوجھ لادا جا سکتا ہے۔میں آپ کو زکوۃ میں بڑی عمر کی خوبصورت جوان اونٹنی دیتا ہوں جو کسی کام بھی آئے۔حضرت ابی بن کعب کہنے لگے کہ میں نے اسے کہا کہ میں تو محض ایک امین ہوں اور امانت اکٹھی کرنے آیا ہوں۔میں یہ نہیں کر سکتا کہ بڑی اونٹنی لوں۔دوسری طرف وہ شخص جو اخلاص والا تھاوہ اصرار کر رہا تھا