خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 625 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 625

خطبات مسرور جلد 15 625 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 دسمبر 2017 جب مختلف صورتیں پیدا ہوئیں تو ہر دفعہ ان کی جو یہ حالت ہوتی ہے یہ بات ہی ثابت کرتی ہے کہ وہ یقینا جنتیوں میں سے تھے اور خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے تھے۔ان کی ایک خصوصیت عبادت اور نماز سے گہری محبت ہے۔اپنے محلے کی مسجد کے امام تھے۔بیماری میں بھی مسجد میں نماز کے لئے آیا کرتے تھے۔بعض دفعہ جب کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مشکل تھا تب بھی مسجد آکر بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحہ 307 اسید بن حضیر مطبوعه دار احیاء التراث العربي بيروت 1996ء) تا کہ نماز باجماعت کا ثواب نہ چھوٹے۔یہ تھی ان لوگوں کی حالت اور ہمارے لئے ان عبادت گزاروں کے یہ نمونے ہیں۔آپ کی رائے بھی بڑی صائب ہوتی تھی۔بڑے اعلیٰ قسم کے مشورے دیا کرتے تھے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت اُسید کی رائے آنے کے بعد فرماتے تھے کہ اب اختلاف مناسب نہیں ہے۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی خلافت کا وقت بھی انہوں نے پایا۔حضرت عمر کی خلافت کے دوران یہ فوت ہوئے اور خلافت سے غیر معمولی اطاعت کا عملی نمونہ دکھایا۔آپ اوس قبیلے کے سردار تھے۔اپنے قبیلے کو کہا کہ کوئی دوسرا قبیلہ مدینہ کا اختلاف کرتا ہے یا نہیں کرتا۔ہم نے کوئی اختلاف نہیں کرنا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کرنی ہے۔(اسد الغابه جلد 1 صفحہ 130-131 اسيد بن حضير مطبوعة دار الفکر بيروت 2003ء) پھر ایک انصاری صحابی ابی بن کعب تھے۔آپ بھی عالم با عمل تھے۔بڑی باقاعدگی سے پانچوں نمازیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کیا کرتے تھے۔نمازوں کی پابندی کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد بیان کرتے ہیں کہ فجر کی نماز کے بعد آپ نے کچھ لوگوں کے بارے میں پوچھا کہ وہ دو اشخاص نماز پہ نہیں آئے۔پھر آپ نے فرمایا کہ دو نمازیں فجر اور عشاء کمزور ایمان والوں اور منافقوں پر بڑی بھاری ہیں۔اگر ان کو علم ہو کہ ان نمازوں کا کتنا ثواب ہے تو وہ ضرور ان نمازوں میں شامل ہوں خواہ انہیں اپنے گھٹنوں کے بل بھی آنا پڑے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحہ 135 حدیث 21587 مسند الانصار حدیث ابی بصير العبدي مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) فجر اور عشاء کی دو نمازوں کے بارے میں آپ نے خاص تاکید فرمائی۔ان کی بعض مسائل کے حل کی بھی روایات ہیں۔ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت ابی بن کعب سے سوال کیا کہ ہمیں دوران سفر ایک چابک ملا ہے۔اونٹوں یا گھوڑوں کو چلانے کے لئے چھانٹا ہے، چابک ہے، اس کا کیا کریں؟ حضرت اُبی نے جواب دیا کہ یہ تو ایک چابک ہے مجھے ایک دفعہ سودینار ملے تھے۔میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے یہ ایک گمشدہ چیز ملی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو کہ یہ گمشدہ چیز مجھے ملی ہے جس کی ہے وہ لے لے۔جب ایک سال کے اعلان کے بعد بھی مالک نہ آیا تو میں وہ دینار لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی