خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 624 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 624

خطبات مسرور جلد 15 624 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 دسمبر 2017 حضرت سعد بن ربیع جنگ اُحد میں بھی شامل ہوئے تھے اور اس میں شہید ہوئے۔ان کا واقعہ یوں لکھا ہے۔ابی بن کعب کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فرمایا کہ سعد بن ربیع کا پتا کر وا سے دشمنوں میں گھرے ہوئے میں نے جنگ کے دوران دیکھا تھا۔تو کہتے ہیں میں سعد کو آوازیں دیتا ہوا نکلا۔جب سعد تک پہنچے تو دیکھا کہ وہ زخموں سے چور ہیں اور ایک جگہ پڑے ہوئے ہیں۔کہتے ہیں میں نے انہیں کہا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور حال پوچھا ہے۔حضرت سعد نے جواب میں کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا بھی سلام کہنا اور عرض کرنا کہ مجھے نیزوں اور تیروں کے شدید زخم پہنچے ہیں۔بظاہر بچنا ممکن نہیں لگتا۔اور یہ کہنا کہ یارسول اللہ ! جتنے خدا کے پہلے نبی گزرے ہیں، ان کی آنکھیں جتنی اپنی قوم سے ٹھنڈی ہو ئیں خدا تعالیٰ ان سے بڑھ کر آپ کی آنکھیں ہم سے ٹھنڈی کرے۔اور میری قوم کو سلام کے بعد یہ کہنا کہ جب تک خدا کار سول تمہارے اندر موجود ہے اس امانت کی حفاظت کرنا تم پر فرض ہے۔یاد رکھو جب تک ایک شخص بھی تمہارے اندر زندہ موجود ہے اگر تم نے اس امانت کی حفاظت میں کوئی کمی دکھائی تو قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے حضور تمہارا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہو گا۔یہ پیغام دے کر آپ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔(اسد الغابه جلد 2 صفحہ 214 سعد بن الربيع الانصاري مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء) حضرت اُسید بن حضیر انصاری ان کو حضرت مصعب کے ذریعہ اسلام قبول کرنے کی سعادت ملی۔ان کے روحانی مقام کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ میری تین حالتیں ایسی ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک حالت بھی مجھ پر طاری رہے تو میں اپنے آپ کو اہل جنت میں سے سمجھوں گا۔پہلی بات یہ کہ جب میں قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہوں یا کوئی اور تلاوت کرے اور میں سن رہا ہوں تو اس وقت قرآن کریم سن کر مجھ پر جو خشیت کی حالت طاری ہوتی ہے اگر وہ ہمیشہ رہے تو میں اپنے آپ کو جنتیوں میں شمار کروں۔دوسری بات یہ کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرماتے ہیں اور میں انتہائی توجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وعظ سنتا ہوں تو اس وقت میری جو حالت ہوتی ہے اگر وہ دائمی ہو جائے تو میں جنتیوں میں سے ہو جاؤں۔کہتے ہیں تیسرے یہ کہ جب میں کسی جنازے میں شامل ہوں تو میری یہ حالت ہوتی ہے کہ گویا یہ جنازہ میرا ہے اور مجھ سے پرسش ہو رہی ہے۔اگر یہ حالت مستقل رہے جو خوف کی حالت ہے تو میں جنتیوں میں اپنے آپ کو شمار کروں۔(مجمع الزوائد جلد 9 صفحہ 378 حدیث 15706 کتاب المناقب باب ما جاء في اسيد بن حضير مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) بہر حال یہ ان کی کمال خشیت الہی کی علامت ہے اور یہی حالت ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کا خوف دلاتی رہتی ہے اور انسان پھر نیک اعمال کی کوشش بھی کرتا رہتا ہے۔ہر وقت اللہ تعالی یاد رہتا ہے۔ہر موقع پر اللہ تعالیٰ یاد رہتا ہے۔جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ ہر دفعہ ان کی ایسی حالت ہونا کہ یہ ہو تو میں اہل جنت میں شمار ہوں۔