خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 623 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 623

خطبات مسرور جلد 15 623 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 دسمبر 2017 وہی کپڑوں پہ ،لباس پر پیوند لگالیا۔صحابہ نے ان کی شان و شوکت پہلے دیکھی ہوئی تھی۔اس لئے بہت ساروں نے ان کی یہ حالت دیکھ کر سر جھکالیا کیونکہ وہ ان کی مدد کرنے سے بھی معذور تھے۔جب مجلس میں آکر حضرت مصعب نے سلام کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دلی محبت سے سلام کا جواب دیا اور اس امیر شخص کی پہلی حالت اور موجودہ حالت کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو حوصلہ دیتے ہوئے فرمایا کہ الحمد للہ۔دنیا داروں کو ان کی دنیا نصیب۔میں نے مصعب کو اس زمانے میں بھی دیکھا ہے جب شہر مکہ میں ان سے بڑھ کر کوئی صاحب ثروت نہیں تھا۔یہ ماں باپ کی عزیز ترین اولاد تھی اور اسے کھانے پینے کی ہر اعلیٰ نعمت میسر تھی۔مگر خدا کے رسول کی محبت نے اسے اس حال میں پہنچایا ہے اور جب اس نے وہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر چھوڑ دیا تو پھر خدا نے اس کے چہرہ کو نور عطا کر دیا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحہ 62 مصعب بن عمير مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) (کنز العمال جلد 13 صفحہ 582 حدیث 37494 مصعب بن عمير مطبوعه مؤسسة الرسالة 1985ء) حضرت مصعب کو تبلیغ کرنے کا بھی خوب ملکہ تھا۔بڑے پیار سے تبلیغ کرتے تھے اور تبلیغ کرنے والوں کو کہا کرتے تھے کہ اگر میری باتیں پسند آئیں تو سنو۔نہ پسند آئیں تو نہ سنو۔اٹھ کے چلے جاؤ۔اور اس طرح مدینہ کے اجنبی لوگوں تک پیغام حق آپ نے پہنچایا۔اور بہت سارے لوگ آپ کی تبلیغ کی وجہ سے مسلمان ہوئے۔(سیرت ابن هشام صفحه 311 العقبة الاولى۔۔۔اسعد بن زراره و مصعب بن عمیر الخ مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) حضرت سعد بن ربیع ایک اور انصاری صحابی تھے۔جب مدینہ میں ہجرت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مواخات کا سلسلہ قائم کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حضرت عبد الرحمن بن عوف کا بھائی بنایا۔وہ انہیں اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے۔خوب مہمان نوازی کی اور پھر کہا کہ اس اخوت کے رشتے کو بڑھانے کے لئے میرا دل چاہتا ہے کہ میں اپنی آدھی جائیداد آپ کو دے دوں اور پھر یہاں تک کہا کہ میری دو بیویاں ہیں جسے آپ چاہیں میں طلاق دے دیتا ہوں۔آپ اس سے شادی کریں۔حضرت عبد الرحمن بن عوف کی بھی کیا مومنانہ شان تھی۔انہوں نے کہا کہ تمہاری دولت، تمہاری جائیداد، تمہاری بیویاں تمہیں مبارک ہوں۔اللہ ان میں برکت ڈالے۔اور کہنے لگے کہ میں تو ایک تاجر آدمی ہوں۔اپنا گزارہ کر لوں گا۔تم صرف مجھے بازار کا رستہ بتا دو اور تمہارے جذبات کا بہت بہت شکریہ (صحیح البخاری کتاب مناقب الانصار باب اخاء النبى الله بين المهاجرين والانصار حدیث 3780-3781) اس طرح انہوں نے تجارت کی اور ایک وقت تھا کہ وہ بڑے امیر تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔لاکھوں کروڑوں کی ان کی آمد ہو گئی۔