خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 622 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 622

خطبات مسرور جلد 15 622 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 دسمبر 2017 حیائیوں سے بچنے کا کہا۔جھوٹ بولنے اور یتیم کا مال کھانے اور پاک دامنوں پر الزام لگانے سے منع کیا۔ہمیں حکم دیا کہ ہم خدائے واحد کی عبادت کریں۔ہم نے اسے قبول کیا اور اس کی باتوں پر عمل کرتے ہیں۔اس بات کی وجہ سے ہماری قوم ہمارے خلاف ہو گئی اور ہمیں اذیتیں دیں۔تکلیفوں میں ڈالا۔اور جب انتہا ہو گئی تو ہم اپنا ملک چھوڑ کر آپ کی پناہ میں آگئے ہیں کیونکہ آپ کے عدل وانصاف کا شہرہ سنا تھا۔اے بادشاہ ہم امید رکھتے ہیں کہ اس ملک میں ہم پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔نجاشی اس سے بڑا متاثر ہوا اور کہا کہ تمہارے رسول پر جو کلام اترا ہے اس میں سے مجھے بھی کچھ پڑھ کر سناؤ۔اس پر انہوں نے سورۃ مریم کی کچھ آیات پڑھیں اور اس خوش الحانی سے پڑھیں کہ نجاشی رونے لگا۔اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہا کہ خدا کی قسم لگتا ہے یہ کلام اور موسیٰ کا کلام ایک ہی سرچشمہ سے ہیں۔اور مکہ کے سفیروں کو کہا کہ میں تمہیں یہ لوگ واپس نہیں کروں گا۔یہ اب یہیں رہیں گے۔مکہ کے ان سفیروں نے مشورہ کے بعد یہ ترکیب کی کہ بادشاہ کو کہا کہ یہ لوگ عیسی کو عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق نہیں مانتے اور اس کا درجہ کم کرتے ہیں۔بادشاہ نے پھر مسلمانوں کو بلایا اور حضرت عیسی کے بارے میں عقیدہ پوچھا۔اس پر حضرت جعفر نے کہا کہ اس بارے میں ہمارے نبی پر یہ کلام اترا ہے کہ عیسی اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے جو اللہ تعالیٰ نے کنواری مریم کو عطا فرمایا۔نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھا کر کہا کہ حضرت عیسی کا مقام اس تنکے سے زیادہ نہیں جو تم نے بیان کیا ہے اور مسلمانوں کو کہا کہ یہاں تمہیں مکمل آزادی ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد اول صفحہ 539 تا 541 مسند جعفر بن ابی طالب حديث 1740 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) آپ کی حکمت، فراست اور علم نے مسلمانوں کو وہاں رہنے کے سامان مہیا فرما دیئے۔ایک صحابی مصعب بن عمیر تھے۔ان کی والدہ بڑی مالدار تھیں۔بڑے امیر لوگ تھے۔بڑے ناز و نعم میں پلے بڑھے تھے۔بڑا اعلیٰ لباس پہنا کرتے تھے۔بڑے خوبصورت جوان تھے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحہ 62 مصعب بن عمير مطبوعه دار احیاء التراث العربي بيروت 1996ء) سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ حضرت مصعب کو آسائش کے زمانہ میں بھی میں نے دیکھا ہے اور مسلمان ہونے کے بعد بھی دیکھا ہے۔آپ نے راہ مولیٰ میں بڑے دکھ برداشت کئے۔سعد کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وہی نوجوان جو بڑے ناز و نعم میں پلا بڑھا تھا اس کی سختیوں کی وجہ سے یہ حالت تھی کہ جسم سے جلد اس طرح اترتی تھی جس طرح سانپ کی کینچلی اترتی ہے۔(اسد الغابه جلد 4 صفحہ 388 مصعب بن عمير مطبوعة دار الفکر بيروت 2003ء) ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مصعب کو اس حالت میں دیکھا کہ مجلس میں آئے تو پیوند شدہ کپڑوں میں۔کپڑے کے پیوند بھی نہیں تھے۔پیوند بھی چمڑے کے لگے ہوئے تھے۔جو چمڑہ کہیں سے، کسی سے ملا