خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 621
خطبات مسرور جلد 15 621 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 دسمبر 2017 اور امانت کا حق ادا کرنے سے ہی ہو سکتی ہے نہ کہ بڑی حکومتوں کا چھوٹی حکومتوں کو مجبور کرنا کہ ہماری مرضی کے مطابق چلو ورنہ ہم تمہارے خلاف کارروائی کریں گے۔اور نہ ہی یہ ہے جو اکثر مسلمان ملکوں میں ہو رہا ہے کہ عوام سے ٹیکس وصول کر کے پھر ان پر خرچ کرنے کی بجائے اکثر لیڈر اپنے خزانے بھر رہے ہیں اور نعرہ حب رسول کا اور صحابہ کی محبت کا لگاتے ہیں۔پھر حضرت عباس ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چاتھے۔فیاضی اور صلہ رحمی میں مشہور تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عباس قریش میں سے سب سے زیادہ سخی اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔اس بات کو سن کر حضرت عباس نے ستر غلام آزاد کر دیئے۔(اسد الغابه جلد 3 صفحہ 62 عباس بن عبد المطلب مطبوعه دار الفکر بيروت 2003ء) یہ تھے ان لوگوں کی سخاوت کے معیار۔پھر حضرت جعفر نہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی تھے۔حضرت علی کے سگے بھائی تھے۔انہوں نے بھی ابتدائی زمانے میں اسلام قبول کرنے کی سعادت پائی اور مکہ میں حالات کی وجہ سے حبشہ ہجرت کی۔مکہ والوں کو جب علم ہوا تو انہوں نے اپنے دو سر داروں کو بہت سے تحائف دے کر حبشہ بھیجا اور وہاں کے سرداروں وغیرہ کے لئے اس پیغام کے ساتھ تحفے بھیجے کہ ہمارے کچھ نا سمجھے نوجوان اپنا دین چھوڑ کر یہاں تمہارے ملک میں آگئے ہیں اور تمہارا دین بھی انہوں نے اختیار نہیں کیا۔بالکل نیا دین ہے اور اس ذریعہ سے انہوں نے سرداروں کے ذریعہ سے، بڑے لوگوں کے ذریعہ سے ان کو تحفے دے کر یہ سفارش کروانا چاہی کہ شاہ حبشہ سے ہماری ملاقات کروادو اور اسی طرح بادشاہ کے لئے بھی بہت سے تحائف لے کر گئے تھے۔ملاقات ہوئی۔بادشاہ کو تحائف بھی انہوں نے دیئے۔بہر حال نجاشی نے جو شاہ حبشہ تھے ان کافروں کی یامکہ کے نمائندوں کی بات سننے کے بعد مسلمانوں کو اپنے دربار میں بلایا۔مسلمان بڑی پریشانی کے عالم میں گئے کہ پتا نہیں ہم سے کیا سلوک ہوتا ہے۔نجاشی نے ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ تم نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے۔نہ ہی تم نے کسی پہلی اُمت کا دین اختیار کیا ہے اور نہ ہمارا یعنی عیسائیت۔حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس موقع پر مسلمانوں کی طرف سے نمائندگی کی اور کہا کہ اے بادشاہ ہم جاہل قوم تھے۔بتوں کی پرستش کرتے تھے۔مُردار کھاتے تھے۔بدکاری کرنا اور رشتہ داروں سے بدسلوکی کرنا ہمارا معمول تھا۔ہم میں سے طاقتور کمزور کو دبا لیتا تھا۔ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے ہم میں ایک رسول مبعوث فرمایا جس کی شرافت اور صدق و امانت اور پاکدامنی اور خاندانی نجابت سے ہم خوب واقف تھے۔اس نے ہمیں خدا تعالیٰ کی توحید اور عبادت کی طرف بلایا اور یہ تعلیم دی کہ ہم خدا کا کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔نہ ہی بتوں کی پرستش کریں۔اس نے ہمیں صدق و امانت ، صلہ رحمی، پڑوسیوں سے حسن سلوک اور بلا وجہ لڑائی اور خون بہانے سے منع کیا۔بے