خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 36
خطبات مسرور جلد 15 36 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2017 کرتے ہیں تو پھر اس بیعت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔نمازوں کے حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں کس معیار پر دیکھنا چاہتے ہیں ؟ اس بارے میں کس کس طریق سے آپ نے ہمیں سمجھایا ہے؟ اس کے لئے آپ کے کچھ ارشادات پیش کرتا ہوں۔ایک مومن لا إلهَ إِلَّا اللہ کا کلمہ پڑھ کر توحید کا اعلان کرتا ہے۔اور توحید کیا ہے ؟ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " پس خوب یاد رکھو اور پھر یاد رکھو کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے " اللہ تعالیٰ سے تعلق ختم کرنا ہے فرمایا " نماز اور توحید کچھ ہی ہو " خود فرماتے ہیں کہ توحید کے عملی اظہار کا نام ہی نماز ہے۔توحید کا منہ سے دعویٰ تو کر دیا لیکن توحید کے عملی اظہار کا نام نماز ہے۔فرمایا " نماز اور توحید کچھ ہی ہو ، اسی وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے جب اس میں نیستی اور تذلل کی روح اور حنیف دل نہ ہو !!" فرمایا " سنو وہ دعا جس کے لئے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ فرمایا ہے۔" یعنی مجھے پکارو میں تمہیں جواب دوں گا۔" اس کے لئے یہی سچی روح مطلوب ہے۔" ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ کے لئے یہ سچی روح مطلوب ہے۔"اگر اس تضرع اور خشوع میں حقیقت کی روح نہیں تو وہ ٹیں ٹیں سے کم نہیں ہے۔" (ملفوظات جلد 9 صفحہ 12) یعنی طوطا جس طرح بولتا ہے اسی طرح ہے سچی روح پیدا کرنی چاہئے۔تضرع اور خشوع پیدا کرنا چاہئے اگر وہ نہیں تو کوئی فائدہ نہیں۔پس جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ دعا میں عاجزی اور تضرع ہو تو پھر اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔پھر آپ نے یہ وضاحت فرمائی کہ نماز کی مختلف حالتیں جیسے قیام ہے، رکوع ہے، سجدہ ہے۔یہ سب حالتیں جو ہیں یہ ایک اضطراری حالت کو ظاہر کرتی ہیں۔ایک بے چینی انسان کی ظاہر کرتی ہیں۔انسان کبھی اٹھتا ہے کبھی بیٹھتا ہے۔کبھی سجدے میں جاتا ہے اور ان حالتوں کی وجہ سے جو ظاہری اضطراری حالت ہے فرمایا کہ ان حالتوں کی وجہ سے دل میں سوزش اور اضطراب پیدا ہونا چاہئے۔دل میں بھی سوزش اور اضطراب پیدا ہونا چاہئے اور جب ایسی حالت ہو گی تو پھر حالت سجدہ میں بھی، قیام میں بھی، رکوع میں بھی پھر لذت اور سرور حاصل ہو گا۔پھر عبودیت کے مقام اور حقیقی عاجزی اور گناہوں کو جلا کر ختم کرنے والی نماز کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " انسان کی روح جب ہمہ نیستی ہو جاتی ہے "ہر وقت عاجزی اور اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھنا ہو جاتی ہے " تو وہ خدا کی طرف ایک چشمے کی طرح بہتی ہے " عاجزی پیدا ہو گی تو تبھی خدا کی طرف بہے گی " اور ماسوی اللہ سے اسے انقطاع ہو جاتا ہے۔اس وقت خدائے تعالیٰ کی محبت اس پر گرتی ہے۔"