خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 620
خطبات مسرور جلد 15 620 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 دسمبر 2017 حضرت ابو عبیدہ کے تحت جو بزرگ صحابہ تھے ان کے کہنے کے باوجود کہ ابو عبیدۃ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر بنا کر اور آزاد طور پر فوج کا سردار بنا کر بھیجا ہے۔اور فرمایا تھا کہ ایک دوسرے سے تعاون کر کے کارروائی کرنا کہ عمر و بن عاص بھی لشکر کے سردار ہیں۔یہ اپنے لشکر کے سردار ہیں۔لیکن آپس میں تعاون سے کارروائی کرنا۔لیکن عمر و بن عاص نے کہا کہ امیر تو میں ہی ہوں کیونکہ پہلے مجھے بھیجا گیا ہے۔اس موقع پر بجائے کسی بحث میں پڑنے کے حضرت ابو عبید نے کہا کہ گو کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آزاد امیر کے طور پر بھجوایا ہے مگر ساتھ ہی باہمی تعاون کا بھی ارشاد فرمایا تھا اس لئے میری طرف سے آپ کو تعاون ہی ملے گا چاہے آپ میری بات مانیں یا نہ مانیں۔میں ہر بات میں آپ کی بات مانوں گا۔(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 3 صفحہ 477 عامر بن عبد الله بن الجراح مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2005ء) پس یہ ہے موقع کی نزاکت کے لحاظ سے صحیح فیصلہ کر کے مسلمانوں کی طاقت کو مضبوط کرنے کے لئے اپنے اختیارات کو بھی چھوڑ دینا۔یہ تعاون باہمی ہے جس کی آج مسلمانوں کو ضرورت ہے جو آج مسلمانوں کی طاقت کو ایک عظیم طاقت بنا سکتا ہے۔کاش کہ مسلمان لیڈروں کو بھی اتنی عقل آجائے کہ اس طرح آپس میں تعاون کریں۔اور حکومت کو انصاف سے چلانے اور دشمن کو اپنا گرویدہ کر لینے کی بھی مثالیں حضرت ابو عبیدہ کی ذات میں ہی ملتی ہیں۔جب بادشاہ روم نے ملک بھر سے فوجیں جمع کر کے مسلمانوں کے مقابلے کے لئے بھیجیں تو اس وقت مسلمانوں کے لشکر کے سردار ابو عبیدہ تھے۔مسلمانوں کو پہلے فتوحات ہوئی تھیں۔مسلمانوں نے قبضہ کر لیا تھا۔پھر ایک بڑی فوج شہنشاہ روم نے بھیجی۔عیسائیوں کے بہت سارے علاقوں پر ، شہروں پر مسلمانوں کا قبضہ تھا۔حضرت ابو عبیدہ نے جرنیلوں سے مشورہ کے بعد اس وقت یہ حکمت عملی اختیار کی کہ فی الحال بعض شہر ہمیں چھوڑ دینے چاہئیں۔جو علاقہ مسلمان فتح کر چکے ہیں اسے چھوڑ دیا جائے لیکن یہ فتح کے بعد کیونکہ وہاں کے غیر مسلم باشندوں سے جزیہ اور خراج وصول کر چکے تھے تو اسے آپ نے یہ کہہ کر ان سب لوگوں کو واپس کر دیا کہ فی الحال ہم تمہاری حفاظت نہیں کر سکتے۔تمہارے حقوق ادا نہیں کر سکتے اس لئے یہ رقم جو ہم نے تم سے بطور جزیہ و خراج وصول کی ہے اسے ہم واپس کرتے ہیں۔چنانچہ مفتوحہ علاقے کے لوگوں کی رقم جو لاکھوں میں تھی واپس کر دی۔اس انصاف اور امانت کی ادائیگی کا غیر مسلموں پر اتنا اثر ہوا کہ مقامی عیسائی باشندے مسلمانوں کو رخصت کرتے ہوئے روتے تھے اور دل سے یہ دعا کر رہے تھے کہ خدا تمہیں پھر جلد واپس لائے۔(سير الصحابه جلد دوم صفحہ 129 سیرت ابو عبيدة بن الجراح مطبوعه دار الاشاعت کراچی2004ء) (فتوح البلدان (بلاذری) صفحہ 83 ، 87 يوم يرموك مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2000ء) یہ تھے وہ لوگ جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر عدل و انصاف کے وہ معیار قائم کئے جن کا تصور بھی نہ پہلے کوئی کر سکتا تھا اور نہ اب کر سکتا ہے۔آج دنیا کے امن کی ضمانت یہ عدل اور انصاف