خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 619 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 619

خطبات مسرور جلد 15 619 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 دسمبر 2017 میری اُمت ہمارے امین عبید بن الجراح ہیں۔(صحيح البخارى كتاب المناقب باب مناقب ابي عبيدة بن الجراح "حديث 3744) کتنا بڑا اعزاز ہے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نوازا۔پھر غزوہ اُحد میں آپ کے ایک ایسے واقعہ کا ذکر ملتا ہے جس نے آپ کو ایک عظیم مرتبہ عطا کر دیا۔اُحد کی جنگ میں پہلے مسلمانوں کی جیت ہوئی۔پھر ایک جگہ چھوڑنے کی وجہ سے کافروں نے دوبارہ حملہ کیا اور جب دشمنان اسلام کی طرف سے بڑی شدت سے پتھر پھینکے جارہے تھے۔جب جنگ کا پانسا پلٹا تو اس وقت پھر انہوں نے پتھر بھی پھینکے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی پتھر پھینکے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی شدت سے بعض پتھر لگے اور آپ کے خود کی دو گڑیاں جو چہرے پر پہنا ہوا تھا۔لوہے کی وہ کڑیاں تھیں جو ٹوٹ کر آپ کے رخسار مبارک میں دھنس گئیں تو حضرت ابو عبید ا تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار سے یہ گڑیاں نکالیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے ایک کڑی کو انہوں نے اپنے دانتوں سے پکڑا اور زور سے کھینچا۔وہ اندر کھی ہوئی تھی تو وہ باہر نکل آئی۔لیکن اتنازور لگانا پڑا کہ جب وہ کڑی باہر نکلی تو جھٹکے سے ابو عبیدہ پیچھے گرے اور اس کے ساتھ ہی آپ کا اگلا ایک دانت بھی ٹوٹ گیا۔پھر انہوں نے دوسری کڑی کو بھی اسی طرح دانتوں میں دبا کر کھینچا تو آپ کا دوسر ادانت بھی ٹوٹ گیا اور پھر آپ اسی طرح پیچھے گرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر وہ اتنی زور سے اتنی گہرائی سے اندر کبھی ہوئی تھیں۔تو یہ ہے وہ عشق و فدائیت کا واقعہ جو رہتی دنیا تک ابو عبیدۃ کا ذکر زندہ رکھے گا۔اس وقت لوگ کہا کرتے تھے اور یہ روایت میں آتا ہے کہ اگلے دوٹوٹے ہوئے دانتوں والا اتنا خو بصورت شخص ہم نے کبھی نہیں دیکھا جتنے حضرت ابو عبیدہ تھے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحہ 218 ومن بنى فهر بن مالك۔۔۔ابو عبيدة بن الجراح مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) عموماً دانت ٹوٹنے سے تھوڑی سی شکل میں فرق پڑ جاتا ہے لیکن کہتے ہیں ان کے دانت ٹوٹنے کے باوجود ان کی خوبصورتی میں اضافہ ہی ہوا۔ان کی عاجزی آپس کے تعاون اور حکمت سے معاملہ کو طے کرنے کا واقعہ یوں بیان ہوتا ہے کہ ایک مہم پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن العاص کو لشکر کا سر دار بنا کر بھیجا۔وہاں جا کر پتا چلا کہ دشمن کی تعداد زیادہ ہے۔ان کے لشکر میں زیادہ تر صرف اعرابی تھے اور مہاجرین اور بڑے صحابہ کم تھے۔اس پر حضرت عمر و بن العاص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مزید مدد طلب کی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدۃ کی سر کردگی میں ایک دستہ بھجوایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدۃ کو یہ نصیحت فرمائی کہ دونوں امراء باہم تعاون سے کام کرنا۔مگر عمر و بن عاص نے اس خیال سے کہ جو نئی کمک پہنچی تھی یہ فوج تو مدد کے لئے آئی ہے اس لئے ان کے تابع ہے۔ابو عبیدۃ کے سپاہیوں کو براہ راست انہوں نے ہدایت دینی شروع کر دی اور