خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 618 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 618

خطبات مسرور جلد 15 618 51 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 دسمبر 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 22 / دسمبر 2017ء بمطابق 22/ فتح 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے صحابہ رضوان اللہ علیہم کی شان، ان کے فضائل اور ان کے نمونوں کے حوالے سے بعض صحابہ کی زندگیوں کے حالات بیان کئے تھے۔اور بھی بیان کرنا چاہتا تھا لیکن وقت کی وجہ سے بیان نہیں کر سکا۔بعد میں لوگوں کے خطوط سے مجھے احساس ہوا کہ کم از کم جو نوٹس میں نے لئے تھے وہ بیان کر دوں تا کہ جہاں صحابہ کے حالات کا علم ہو ، ان کی قربانیوں کا علم ہو ، وہاں ہمیں ان کے نمونوں کو اپنانے کی طرف توجہ بھی پیدا ہو۔لہذا آج میں اسی حوالے سے پھر بات کروں گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک جلیل القدر صحابی ابو عبیدۃ بن الجراح تھے۔ایک صحابی ہونے کی حیثیت سے یقیناً اُن کا ایک مقام تھا۔بہت ساری خصوصیات کے حامل تھے۔لیکن آپ کے امین ہونے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سند عطا کی ہے اس کا روایت میں یوں ذکر ملتا ہے کہ نجران کے وفد نے جب نجران والوں سے کسی کو خراج وصول کرنے کے لئے بھیجوانے کے لئے کہا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے پاس ضرور ایسا شخص بھیجوں گا یعنی ایک ایسا امین جو سراسر امین ہو گا۔اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پھر گرد نہیں اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے کہ دیکھیں کون ہے وہ شخص جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ اعزاز بخش رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابو عبیدۃ کھڑے ہو جائیں اور حضرت ابو عبیدہؓ کو وہاں بھیجنے کا ارشاد فرمایا۔(صحیح البخاری کتاب المغازى باب قصة اهل نجران حدیث 4380) ان کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کی حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے اس طرح روایت ملتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر ایک اُمت کا ایک امین ہوتا ہے اور اے