خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 616 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 616

وہ خطبات مسرور جلد 15 616 دیا۔" جب تک اسلام اس حالت میں رہاوہ زمانہ اقبال اور عروج کا رہا۔" خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 دسمبر 2017 ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 157) جب ایسا زمانہ تھا تو اسلام ترقی بھی کرتارہا۔پھر ایک موقع پر آپ صحابہ کے فضائل بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : " صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے وفادار اور مطبع فرمان تھے کہ کسی نبی کے شاگردوں میں ایسی نظیر نہیں ملتی اور خدا کے احکام پر ایسے قائم تھے کہ قرآن شریف ان کی تعریفوں سے بھرا پڑا ہے۔لکھا ہے کہ جب شراب کی حرمت کا حکم نافذ ہوا تو جس قدر شراب برتنوں میں تھی وہ گرادی گئی اور کہتے ہیں اس قدر شراب یہی کہ نالیاں یہ نکلیں۔اور پھر کسی سے ایسا فعل شنیع سرزد نہ ہوا۔"جب ایک دفعہ شراب سے توبہ کر لی تو پھر کبھی نہ پی " اور ہ شراب کے پکے دشمن ہو گئے۔دیکھو یہ کیسا ثبات اور استقلال علی الطاعت تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت جس وفاداری، محبت اور ارادت اور جوش سے انہوں نے کی کبھی کسی نے نہیں کی۔موسیٰ علیہ السلام کی جماعت کے حالات پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وہ کئی بار پتھراؤ کرنا چاہتی تھی اور حضرت عیسی علیہ السلام کے حواری تو ایسے کمزور اور ضعیف الاعتقاد تھے کہ خود عیسائیوں کو تسلیم کرنا پڑا ہے۔اور حضرت مسیح آپ انجیل میں ست اعتقاد ان کا نام رکھتے ہیں۔انہوں نے اپنے استاد کے ساتھ سخت غداری کی اور بے وفائی کا نمونہ دکھایا کہ اس مصیبت کی گھڑی میں الگ ہو گئے۔ایک نے گرفتار کرا دیا۔دوسرے نے لعنت بھیج کر انکار کر دیا۔مگر صحابہ ایسے اراد تمند اور جان نثار تھے کہ خود خدا تعالیٰ نے ان کی شہادت دی کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں جانوں تک دینے میں دریغ نہیں کیا اور ہر صفت ایمان کی اُن میں پائی جاتی ہے۔عابد، زاہد، سخی، بہادر اور وفادار یہ شرائط ایمان کی کسی دوسری قوم میں نہیں پائی جاتیں۔" آپ فرماتے ہیں کہ " جس قدر مصائب اور تکالیف صحابہ کو ابتدائے اسلام میں اٹھانی پڑیں ان کی نظیر بھی کسی اور قوم میں نہیں ملتی۔اس بہادر قوم نے ان مصیبتوں کو برداشت کرنا گوارا کیا لیکن اسلام کو نہیں چھوڑا۔ان مصیبتوں کی انتہا آخر اس پر ہوئی کہ ان کو وطن چھوڑنا پڑا اور نبی کریم کے ساتھ ہجرت کرنی پڑی۔اور جب خدا تعالیٰ کی نظر میں کفار کی شرارتیں حد سے تجاوز کر گئیں اور وہ قابل سزا ٹھہر گئیں تو خدا تعالیٰ نے انہیں صحابہ کو مامور کیا کہ اس سرکش قوم کو سزا دیں۔چنانچہ اس قوم کو جو مسجدوں میں دن رات اپنے خدا کی عبادت کرتی تھی اور جس کی تعداد بہت تھوڑی تھی جس کے پاس کوئی سامان جنگ نہ تھا مخالفوں کے حملوں کے روکنے کے واسطے میدانِ جنگ میں آنا پڑا۔اسلامی جنگیں دفاعی تھیں۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 137-138) پھر ایک جگہ آپ نے مختصر فرمایا کہ " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ