خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 615
خطبات مسرور جلد 15 615 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 دسمبر 2017 پس دنیوی چیزوں کا استعمال بھی تھا لیکن دنیا سے رغبت نہیں تھی۔پھر حضرت بلال ہیں جو ہر قسم کی تکلیف برداشت کرتے رہے لیکن ہمیشہ خدائے واحد کا نعرہ ہی لگایا۔سخت پتھروں اور گرم ریت پر آپ کو گھسیٹا جاتا لیکن اس کے باوجود اپنے ایمان پر قائم رہے اور احد احد ہی کہا۔لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ ہی کہا۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحہ 124 من شهد بدراً - بلال بن رباح مطبوعه دار احیاء التراث العربي بيروت 1996) پھر سعد بن معاذ جو انصاری تھے انہوں نے جنگ بدر والے دن انصار کی نمائندگی کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کی طرف سے جو توقع تھی اس پہ آپ پورا اترے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ! ہم آپ پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی اور گواہی دی کہ آپ کی لائی ہوئی تعلیم بر حق ہے اور ہم نے اس پر آپ سے پختہ عہد کئے کہ ہمیشہ آپ کی بات سن کر فوراً اطاعت کریں گے۔پس اے خدا کے رسول ! آپ کا جو ارادہ ہے اس کے مطابق آپ آگے بڑھیں۔انشاء اللہ آپ ہمیں اپنے ساتھ پائیں گے۔اگر آپ سمندر میں کود جانے کے لئے ہمیں ارشاد فرمائیں تو ہم اس میں کو د جائیں گے اور ہم میں سے ایک بھی پیچھے نہیں رہے گا۔اور ہم دشمن سے مقابلہ کرنے سے گھبراتے نہیں۔اور ہم ڈٹ کر مقابلہ کرنا خوب جانتے ہیں۔ہمیں کامل امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہم سے وہ کچھ دکھائے گا جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔پس آپ جہاں چاہیں ہمیں لے چلیں۔(سیرت ابن هشام صفحہ 421 باب غزوہ بدر الكبری، استيثاق الرسول الله۔۔۔۔الخ مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) پس یہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے عہد پورے کئے اور پھر اپنے نمونے قائم کئے اور اللہ تعالیٰ بھی ان سے راضی ہوا۔یہ چند صحابہ کے نمونے ہیں۔تاریخ تو ان کے نمونوں سے بھری پڑی ہے۔یہ لوگ ہیں جو ہمارے لئے قابل تقلید ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے۔اور ایسی کامیابی ایک خیالی امر ہے جس کی تلاش میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں۔صحابہ کے نمونوں کو اپنے سامنے رکھو۔دیکھو انہوں نے جب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی اور دین کو دنیا پر مقدم کیا تو وہ سب وعدے جو اللہ تعالیٰ نے اُن سے کئے تھے پورے ہو گئے۔ابتدا میں مخالف ہنسی کرتے تھے کہ باہر آزادی سے نکل نہیں سکتے۔اور بادشاہی کے دعوے کرتے ہیں۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں گم ہو کر وہ پایا جو صدیوں سے ان کے حصے میں نہ آیا تھا۔وہ قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے اور اُن ہی کی اطاعت اور پیروی میں دن رات کوشاں تھے۔اُن لوگوں کی پیروی کسی رسم ورواج تک میں بھی نہ کرتے تھے جن کو کفار کہتے تھے۔" یعنی جب ایمان لے آئے تو کفار کے ہر کام جو تھے چھوڑ دیئے۔اور خالصہ اسلامی تعلیم پر عمل کرناشروع کر