خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 614
614 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 دسمبر 2017 خطبات مسرور جلد 15 خوش و خرم باہر جاتے۔گھر والوں کے ساتھ بھی نیک سلوک تھا۔ہمیشہ خوش رہتے تھے۔اور یہ نہیں کہ گھر میں اور موڈ ہے اور باہر اور ہے۔کہتی ہیں کچھ طلب کرو تو بخل نہیں کرتے تھے۔مانگو تو دے دیتے تھے اور خاموش رہو تو مانگنے کا انتظار نہیں کرتے تھے۔یعنی یہ نہیں ہے کہ مانگو تبھی ملنا ہے بلکہ جو ضروریات ہوتی تھیں خود دیکھتے بھی رہتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ میں کسی طرح گھر والوں کی ضروریات پوری کروں۔چار بیویاں تھیں۔چاروں بڑی خوش تھیں۔کہتی ہیں نیکی کرو تو شکر گزار ہوتے تھے اور غلطی کر و تو معاف کر دیتے تھے۔(کنز العمال جلد 12 صفحہ 198-199 حدیث 36592 مسند طلحه بن عبيد الله مطبوعه مؤسسة الرسالة1985ء) یہ وہ اصول ہیں جو گھر وں کے سکون کا باعث بنتے ہیں جو میاں بیوی کے رشتوں کو مضبوط کرتے ہیں۔پس یہ بھی ہمارے لئے ایک نمونہ ہے۔ایک صحابی عبد اللہ بن مسعود کی اطاعت خلافت کا واقعہ یوں بیان ہوا ہے۔آپ کو حضرت عمرؓ نے اہل کوفہ کی تعلیم و تربیت کے لئے مقر فرمایا اور اہل کوفہ کو لکھا کہ ن کی مدینہ میں بہت ضرورت ہے لیکن تمہاری خاطر میں قربانی کر کے انہیں تمہاری تربیت کے لئے بھیج رہا ہوں۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحہ 135-136 عمار بن یاسر مطبوعه دار احیاء التراث العربي بيروت 1996) تو یہ مقام تھا ان کا۔حضرت عثمان نے بھی ان کے اس مقام کو قائم رکھا بلکہ کوفہ کا امیر مقرر کر دیا اور ساتھ قاضی اور بیت المال کا نظام بھی ان کے پاس تھا تو مسائل پید اہوئے۔کوفہ والوں کی شرارتیں بھی ہوتی رہتی تھیں۔تو پھر بعض مصالح کی وجہ سے ، حضرت عثمانؓ نے ان کو امارت سے ہٹا کر واپس مدینہ بلالیا۔تو کوفہ والوں نے کہا کہ آپ واپس نہ جائیں اور یہیں رہیں۔یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تا۔اس پر حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا کہ خلیفہ وقت کی اطاعت مجھ پر واجب ہے اور میں ہر گز گوارا نہیں کر سکتا کہ ان کی نافرمانی کر کے فتنہ کا کوئی دروازہ کھولوں اور مدینہ واپس چلے گئے۔ان کے بارے میں ایک راوی نے کہا کہ میں کئی صحابہ کی مجالس میں بیٹھا ہوں مگر عبد اللہ بن مسعود کی دنیا سے بے رغبتی اور آخرت سے رغبت کی اپنی شان تھی۔(الاصابه في تمييز الصحابة جلد 4 صفحه 201 ذكر من اسمه عبد الله، عبد الله بن مسعود الغفاری مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2004ء) ظاہری طور پر بھی آپ بڑے نفاست پسند تھے۔دنیا سے بے رغبتی کے باوجود آپ کے ملازم ، ایک خادم نے ، غلام نے کہا کہ بہترین قسم کا سفید لباس پہنتے اور اعلیٰ خوشبو لگاتے۔ان کے بارے میں حضرت طلحہ کہتے ہیں کہ ان کی خوشبو ایسی اعلیٰ قسم کی ہوتی تھی کہ رات کے اندھیرے میں بھی خوشبو سے پتا چل جاتا تھا کہ عبد اللہ بن مسعود آرہے ہیں۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3صفحه 83-84 ومن حلفاء بني زهرة۔ذكر ما اوصی به عبد الله بن مسعود مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996)