خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 613
خطبات مسرور جلد 15 613 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 دسمبر 2017 بات نہ ہو جائے جس کو میں سمجھانہ ہوں اور غلط نکل جائے اور اس وجہ سے میں بہت خوفزدہ ہوں۔(صحيح البخارى كتاب العلم باب اثم من كذب على النبي الله الله حدیث 107) شجاعت اور مردانگی بھی آپ میں بہت زیادہ تھی۔اتنی تھی کہ جب اسکندریہ کا محاصرہ لمبا ہو گیا تو آپ نے سیڑھی لگا کر قلعہ کی فصیل پر چڑھنا چاہا۔ساتھیوں نے کہا کہ قلعہ میں سخت طاعون پھیلا ہوا ہے۔آپ نے کہا کوئی فرق نہیں۔ہم بھی طعن اور طاعون کے لئے ہی ہیں اور آپ نے بات نہیں مانی اور قلعہ کی دیوار پر چڑھ گئے۔بہت مالدار تھے جو مال آتا اس کا اکثر حصہ خدا تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کر دیتے تھے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 57-58 ومن بني اسد بن عبد العزى۔۔۔ذكر وصيت زبير وقضاء دينه مطبوعه دار احیاء التراث العربی بیروت 1996) پھر ایک صحابی کا ذکر ملتا ہے جن کا نام طلحہ بن عبید اللہ تھا۔آپ بھی امیر آدمی تھے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ اپنی جائیداد کا ایک حصہ سات لاکھ درہم میں حضرت عثمان کو فروخت کیا اور سب مال خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیا۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحہ 117 ومن بني تيم بن مره۔طلحه بن عبيد مطبوعه دار احیاء التراث العربي بيروت 1996) مہمان نوازی بھی ان کا ایک خاص وصف تھا۔ایک دفعہ ایک قبیلہ کے تین مفلوک الحال افراد نے اسلام قبول کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا صحابہ میں سے کون ان کی کفالت کی ذمہ داری لیتا ہے۔حضرت طلحہ نے بخوشی اس کی حامی بھر لی اور تینوں کو اپنے گھر لے گئے اور وہیں ٹھہرایا اور ان کی میزبانی کرتے رہے یہانتک کہ مستقل گھر کا فرد بنالیا۔کہتے ہیں یہانتک کہ موت نے انہیں آپ سے جدا کیا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 446 حديث 1401 مسند طلحة بن عبيد الله مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) حضرت طلحہ دوستی اور اخوت کا رشتہ بھی خوب نبھانے والے تھے۔حضرت کعب بن مالک انصاری کو جب غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے مقاطعہ کی سزا ہوئی تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کی معافی کا اعلان فرمایا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوئے تو حضرت طلحہ دیوانہ وار دوڑتے ہوئے ان کے استقبال کو آگے بڑھے اور مصافحہ کر کے انہیں مبارکباد دی۔حضرت کعب ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ حضرت طلحہ جیسا استقبال اور گرمجوشی کسی اور نے نہیں دکھائی۔(صحيح البخارى كتاب المغازی باب حدیث کعب بن مالك حديث 4418) ایک خوبی جو بیویوں سے تعلق رکھتی ہے، خاوندوں سے تعلق رکھتی ہے وہ بھی آپ کی ایک اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت طلحہ ہنستے مسکراتے گھر واپس آتے۔بڑے کام تھے۔مصروف تھے۔سب کچھ تھا۔گھر آتے تو ایسی شکل بنا کر نہیں آتے تھے کہ گھر والے ڈر کر ایک طرف کونے میں لگ جائیں۔ہنستے مسکراتے گھر واپس آتے اور