خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 612 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 612

خطبات مسرور جلد 15 612 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 دسمبر 2017 ایک صحابی سعد بن وقاص تھے۔اسلام قبول کرنے کے بعد ان کے ایمان کا واقعہ یوں بیان ہو تا ہے۔وہ خود کہتے ہیں کہ جب میں نے اسلام قبول کیا تو میری والدہ نے کہا کہ یہ تم نے کیا نیا دین اختیار کر لیا ہے ؟ تمہیں بہر حال یہ دین چھوڑنا پڑے گا ورنہ میں نہ کچھ کھاؤں گی نہ پیوں گی۔بھوک ہڑتال ہے یہاں تک کہ مر جاؤں گی۔اور نتیجہ کیا ہو گا؟ لوگ تمہیں کہیں گے کہ ماں کا قتل کر دیا۔تمہیں ماں کے قاتل کا طعنہ دیں گے۔کہتے ہیں کہ میں نے کہا ماں ایسا ہر گز نہ کرنا کیونکہ میں اپنادین نہیں چھوڑ سکتا مگر وہ نہ مانی اور تین دن اور راتیں گزر گئیں انہوں نے نہ کچھ کھایا نہ پیا۔بھوک سے نڈھال تھیں۔کہتے ہیں تب میں نے ان کو جا کر کہا کہ خدا کی قسم ! آپ کی ہزار جانیں بھی ہوں اور وہ ایک ایک کر کے نکلیں تو تب بھی میں اپنا دین نہیں چھوڑوں گا۔جب انہوں نے بیٹے کا یہ عزم دیکھا تو کھانا پینا شروع کر دیا۔(اسد الغابه جلد 2 صفحہ 234 سعد بن مالك القرشى مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء) اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ والدین کی باتیں مانو۔ان کی خدمت کرو۔لیکن جہاں دین کا معاملہ آئے، جہاں اللہ کا معاملہ آئے وہاں بہر حال تم نے اللہ کی بات سنی ہے۔آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اور پہرہ دینے کا بھی موقع ملا۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ آئے تو بعض دنوں میں کچھ یا ان دنوں میں کچھ خراب حالات تھے۔اس کی وجہ سے آپ رات آرام کی نیند سو نہ سکے۔آپ نے فرمایا کئی را تیں اس طرح گزر گئیں۔ایک رات آپ نے فرمایا کہ رات خدا کا کوئی بندہ پہرہ دیتا تو کیا ہی اچھا ہو تا۔خطرہ جو تھا وہ نہ ہو، اور میں تھوڑی دیر آرام کر لوں جو بھی آپ معمولی آرام کیا کرتے تھے۔تو کہتی ہیں جب آپ یہ بات کر ہی رہے تھے تو اچانک ہتھیاروں کی آواز سنائی دی۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون ہے ؟ جواب دیا میں سعد ہوں۔آپ نے پوچھا کیسے آئے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ مجھے آپ کی حفاظت کے بارے میں خطرہ پید اہوااس لئے پہرہ دینے آیا ہوں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ رات آرام سے سوئے اور انہیں دعائیں دیں۔(صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابه باب في فضل سعد بن ابی وقاص حدیث 6231) ایک صحابی حضرت زبیر بن العوام تھے۔ان میں خشیت الہی بہت تھی۔یعنی اللہ تعالیٰ کا خوف بڑا تھا کہ میں کوئی ایسی غلط بات نہ کروں جس پر اللہ تعالی کی پکڑ میں آجاؤں۔آپ کے بیٹے نے ایک دفعہ پوچھا کہ آپ دوسرے صحابہ کی طرح احادیث کثرت سے بیان نہیں کرتے۔کہنے لگے کہ جب سے اسلام لایا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں ہوا۔ہمیشہ آپ کے ساتھ ساتھ رہا ہوں۔مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تنبیہ سے ڈر تاہوں۔ساتھ ساتھ رہا ہوں۔بہت باتیں سنی ہیں۔بہت حوالے ہیں میرے پاس۔بہت روایات ہیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تنبیہ سے ڈر تاہوں کہ جس نے میری طرف غلط بات منسوب کی وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔کہ کہیں کوئی ایسی