خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 611
خطبات مسرور جلد 15 611 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 دسمبر 2017 حوصلہ اور مضبوط قویٰ کے مالک تھے۔فیصلہ کن بات کہتے اور عدل سے فیصلہ کرتے۔ان کی جانب سے علم کا چشمہ پھوٹتا اور ان کی حکمت ہر طرف سے ٹپکتی۔دنیا اور اس کی رونقوں سے وحشت محسوس کرتے اور رات اور اس کی تنہائی سے اُنس رکھتے۔یعنی بجائے دنیا داری میں ملوث ہونے کے راتوں کی عبادت ان کی پسندیدہ چیزیں تھیں۔کہنے لگا کہ وہ بہت رونے والے، لمبا غور کرنے والے تھے۔وہ ہم میں ہماری طرح رہتے تھے۔بڑی سادہ زندگی تھی۔کہتا ہے کہ خدا کی قسم ! ہم ان کے ساتھ محبت و قرب کے تعلق کے باوجود ان کے رعب کی وجہ سے بات کرنے سے رکھتے تھے۔کھل کے بات نہیں کر سکتے تھے۔وہ دیندار لوگوں کی عزت کرتے اور مساکین کو اپنے پاس جگہ دیتے۔طاقتور کو اس کے باطل موقف میں طمع کا موقع نہ دیتے۔اگر کوئی طاقتور ہے اور اس نے اگر جھوٹا موقف اختیار کیا ہے۔اس میں لالچ ہے، لالچ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو اس کا موقع اس کو نہ دیتے۔وہیں پکڑ لیتے۔اور کمزور آپ کے عدل سے مایوس نہ ہو تا۔یہ حضرت علی کی خصوصیات تھیں۔یہ سن کر امیر معاویہ نے بھی کہا کہ تم سچ کہتے ہو اور روپڑے۔(الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 3 صفحہ 208-2019 علی ابن ابی طالب مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت عبد الرحمن بن عوف تھے۔مالی قربانی کرنے میں آپ کا بھی بڑا مقام تھا۔بڑے مالدار تاجر تھے۔دولت کی بڑی فراوانی تھی۔ایک دفعہ ایک شخص نے خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے کسی کی آواز سنی جو یہ دعا کر رہا تھا کہ اے اللہ مجھے اپنے نفس کے بخل سے محفوظ رکھ۔جب دیکھا کہ وہ شخص کون ہے تو وہ عبد الرحمن بن عوف تھے۔(الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 2 صفحہ 388-389 عبد الرحمن بن عوف مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت2002ء) ایک دفعہ ان کا ایک تجارتی قافلہ مدینہ آیا تو اس میں سات سو اونٹوں پر گندم آٹا اور دوسرا سامان لدا ہو اتھا۔مدینہ میں اتنے بڑے قافلے کے چرچے ہو رہے تھے کہ اتنا بڑا قافلہ آیا ہے۔یہ خبر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تک بھی پہنچی تو حضرت عائشہ نے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ عبد الرحمن جنتی ہیں۔جب عبد الرحمن کو یہ اطلاع ہوئی تو حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ آپ کو گواہ کر کے سات سو اونٹوں کا یہ لدا ہوا قافلہ جو ہے، پورے سامان سے لدا ہوا، اونٹوں سمیت خدا کی راہ میں وقف کرتا ہوں۔(اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 378 عبد الرحمن بن عوف مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء) حضرت عبد الرحمن کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک دفعہ حضرت خالد کی تکرار حضرت عبد الرحمن سے ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے خالد ! میرے صحابہ کو کچھ نہ کہو۔تم میں سے اگر کوئی اُحد کے پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو عبد الرحمن بن عوف کی اس صبح یا شام کو بھی نہیں پہنچ سکتا جو اس نے خدا تعالیٰ کی راہ میں جہاد کر کے گزارے ہیں۔(کنز العمال جلد 13 صفحہ 222-223 حدیث 36674 مطبوعه موسسة الرسالة بيروت 1985ء)