خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 35 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 35

خطبات مسرور جلد 15 35 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2017 کے بارے میں میں نے جو استفسار کیا اور جائزہ لیا تو اس میں جو اعداد و شمار سامنے آئے کافی بہتر تھے۔لیکن نظام کی اس میں کوئی کوشش نہیں تھی۔اگر لذت وسرور پیدا کرنے والے نمازی پیدا ہو جائیں گے تو مالی نظام خود بخود ٹھیک ہو جائے گا کیونکہ تقویٰ کا معیار بڑھنے سے ہی مالی قربانی کی طرف بھی توجہ پیدا ہوتی ہے۔اور یہی نہیں بلکہ امور عامہ اور قضا کے جو مسائل ہیں وہ بھی بہت حد تک حل ہو جائیں گے بلکہ اگر سارے نمازیں صحیح طرح ادا کرنی شروع کر دیں تو باقی شعبہ جات بھی ایکٹو (active) ہو جائیں گے۔اور آجکل تو صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کے عمومی حالات ایسے ہیں کہ جنگ اور تباہی کا خطرہ بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔حکومتوں نے بھی اب اس کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے اور اس کے لئے کچھ نہ کچھ حد تک کارروائیاں بھی شروع کر دی ہیں۔ایسے وقت میں اللہ تعالی کی پناہ ہی ہے جو بچائے گی۔بہت سے لوگ لکھتے ہیں کہ جنگ شروع ہو گی تو کیا ہو گا ؟ ہم کیا کریں ؟ تو ان کو یہی جواب ہے کہ اگر ان خطروں سے بچنا ہے تو پھر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے خدائے ذوالعجائب سے پیار کرنا ہو گا۔اور اس پیار کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنی نمازوں اور اپنی عبادتوں کو اس کے حکم کے مطابق ڈھالتے ہوئے ہم لذت و سرور پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اکثر لوگ ان ممالک میں آکر دنیاوی کشائش دیکھ کر خدا تعالیٰ کو بھلا دیتے ہیں۔ان کے خیال میں یہ کشائش انہیں ان ملکوں کی ترقی کی وجہ سے ملی ہے۔اور یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ اتنے ترقی یافتہ ہیں لیکن ان کے کون سے ایسے عمل ہیں، کونسی عبادتیں کر رہے ہیں کہ اس کے باوجود یہ ترقی کر رہے ہیں اور پھر بعض یہ بھی سوچتے ہیں کہ ہم ان سے تو بہتر ہیں کہ اگر پانچ نمازیں فرض ہیں تو پانچ میں سے دو تین نمازیں تو پڑھ ہی لیتے ہیں۔ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ خدا کو بھولنے والوں کے لئے آخر میں عذاب مقدر ہے تو ان لوگوں کے پیچھے نہ چلیں۔ہم نے اگر اللہ تعالی کی پکڑ سے بچنا ہے اور اپنی نسلوں کو بچانا ہے تو ان کی یہ ظاہری حالت نہ دیکھیں بلکہ اس تعلیم کے مطابق عمل کریں جو خدا تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پر ایمان کے بعد قیام نماز کا حکم دیا ہے۔پس ہر احمدی مرد کو بھی، عورت کو بھی، اپنی نمازوں کی حفاظت اور مردوں کو خاص طور پر باجماعت نماز کی ادائیگی کی طرف بہت توجہ دینی چاہئے۔اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نمازوں کی اہمیت، اس کے پڑھنے کے طریق، اس کے فلسفہ کے بارے میں بہت کھول کھول کر بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرماتے ہوئے ہمیں آپ کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی لیکن اس کے باوجود اگر ہم بنیادی چیز پر عمل نہیں کریں گے جیسا کہ میں نے کہا اور غیروں کی طرح دو تین نمازوں پر ہی اکتفا کریں گے جس طرح کہ اکثر غیر احمدی بھی اسی طرح