خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 610
خطبات مسرور جلد 15 610 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 دسمبر 2017 یہ تھا آپ کا انکسار اور اللہ تعالیٰ کا خوف اور پھر حضرت عمرؓ بھی شرمندہ تھے اور پھر معافی مانگنے آئے تھے۔دونوں طرف سے شرمندگی تھی۔یہ وہ پاک معاشرہ تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا تھا اور اس میں رہنے والے اللہ تعالیٰ کی رضا کے مورد بنے۔حضرت عمرؓ کی عاجزی کے ایک واقعہ کا ذکر یوں ملتا ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ آپ حضرت ابو بکر سے بہتر ہیں۔اس پر حضرت عمر رونے لگے اور فرمایا کہ خدا کی قسم ! حضرت ابو بکر کی ایک رات اور ایک دن ہی عمر اور اس کی اولاد کی پوری زندگی سے بہتر ہے۔فرمایا کیا میں تمہیں اس رات اور دن کا حال سناؤں؟ پوچھنے والے کے یہ کہنے پر کہ ہاں جی فرمائیں۔آپ نے فرمایا کہ ان کی رات تو وہ تھی جب رات کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کر کے جانا پڑا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کا ساتھ دیا اور ان کا دن وہ تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور عرب نماز اور زکوۃ سے منکر ہو گئے۔اس وقت انہوں نے میرے مشورے کے برخلاف جہاد کا عزم کیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اس میں کامیاب کر کے ثابت فرمایا کہ وہ حق پر تھے۔(کنز العمال كتاب الفضائل باب فضائل الصحابة فضل الصديق جلد 12 صفحہ 93-494 حديث 35615مطبوعه مؤسسة الرسالة 1985ء) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اور جلیل القدر صحابی حضرت عثمان تھے جو خلیفہ ثالث بھی تھے۔آپ کی صلہ رحمی اور آپؐ کی زندگی کی بہت ساری خصوصیات بڑی نمایاں ہیں۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت عثمان سب سے بڑھ کر صلہ رحمی کرنے والے اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے تھے۔اور دین کے لئے بہت قربانیاں کرنے والے بھی تھے۔(الاصابه في تمييز الصحابة جلد 4 صفحہ 378 عثمان بن عفان مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2004ء) جب توسیع مسجد نبوی کا معاملہ آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ارد گرد کے جتنے مکانات ہیں ان کو مسجد میں شامل کر لیا جائے۔ظاہر ہے وہ مکانات لوگوں سے خریدنے تھے۔اس وقت حضرت عثمان نے آگے بڑھ کر یعنی فوری طور پر اپنے آپ کو پیش کیا کہ میں یہ خریدتا ہوں اور پندرہ ہزار درہم دے کر وہ جگہ خرید لی۔مسلمانوں کو پانی کی دقت کا سامنا ہوا۔ایک یہودی کا کنواں تھا۔وہاں سے پانی لینے میں دقت تھی تو آپ نے یہودی سے منہ مانگی قیمت پر وہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لئے پانی کا انتظام فرمایا۔(سنن النسائى كتاب الاحباس باب وقف المساجد حدیث 3637-3638) یہ ان کی ہمدردی خلق تھی۔پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔امیر معاویہ نے کسی سے حضرت علیؓ کے اوصاف بیان کرنے کے لئے کہا۔اس نے کہا آپ سن لیں گے جو میں بیان کروں گا۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے بیان کرو۔ظاہر ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ان کی مخالفت چلتی رہی۔اس نے کہا کہ اگر ضرور سننا ہے تو سنیں کہ وہ بلند