خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 609
خطبات مسرور جلد 15 609 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 دسمبر 2017 تھے۔ایک ظاہری دشمنوں کا مقابلہ اور دوسر اروحانی مقابلہ۔"روحانی مقابلے کے لئے بھی رباط کا حکم ہے۔ہر وقت سچی تیاری کرتے رہو۔فرمایا اور رباط لغت میں نفس اور انسانی دل کو بھی کہتے ہیں۔اور یہ ایک لطیف بات ہے کہ گھوڑے وہی کام کرتے ہیں جو سدھائے ہوئے اور تعلیم یافتہ ہوں۔" آپ فرماتے ہیں کہ " آجکل گھوڑوں کی تعلیم و تربیت کا اسی انداز پر لحاظ رکھا جاتا ہے۔اور اُسی طرح اُن کو سدھایا اور سکھایا جاتا ہے جس طرح بچوں کو سکولوں میں خاص احتیاط اور اہتمام سے تعلیم دی جاتی ہے۔اگر اُن کو تعلیم نہ دی جائے اور وہ سدھائے نہ جائیں تو وہ بالکل سکتے ہوں۔اور بجائے مفید ہونے کے خوفناک اور مضر ثابت ہوں۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 54-55) پس اسی طرح نفس کو بھی سدھارنے کی ضرورت ہے۔اس کو بھی قابو کرنے کی ضرورت ہے۔اس کو بھی تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔پس رباط اسی وقت ہو گا جب انسان، ایک مومن علمی اور عملی طور پر ترقی کی کوشش کرے اور اپنے نفس کو بھی لگام دیتار ہے۔صحابہ کے کیسے نمونے تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کے نتیجہ میں ان میں پیدا ہوئے؟ اس کے بعض نمونے پیش کرتا ہوں۔ایک تو ہم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نمونہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباس میں دیکھا کہ اپنے گھر کا گل سامان دینی ضرورت کے وقت لے کر حاضر ہو گئے۔آپ کے انکسار اور اللہ تعالیٰ کی خشیت کا ایک واقعہ اب سنیں۔ایک دفعہ حضرت ابو بکر کی حضرت عمرؓ کے ساتھ تکرار ہو گئی جو ناراضگی تک لمبی بحث ہو گئی۔ان کی آوازیں اونچی ہو گئی ہوں گی۔اس کے بعد جب بات ختم ہو گئی تو حضرت ابو بکر حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور معذرت کی کہ زیادہ تکرار میں آواز شاید کچھ زیادہ اونچی ہو گئی ہو گی۔سخت الفاظ ہو گئے ہوں گے۔لیکن حضرت عمرؓ نے معاف کرنے سے انکار کر دیا۔اس پر حضرت ابو بکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ بیان کیا اور عرض کی کہ اس کی معافی کے لئے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔تھوڑی دیر بعد ہی حضرت عمرؓ کو بھی احساس ندامت ہوا۔شرمندگی ہوئی۔احساس ہوا کہ غلطی ہو گئی تھی اور وہ بھی حضرت ابو بکر کے گھر گئے کہ ان سے معذرت کریں۔وہاں دیکھا تو گھر میں نہیں تھے۔حضرت عمر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہیں دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ ناراضگی سے سرخ ہو گیا۔یہ دیکھ کر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عمر یہ بڑی ناراضگی ہے۔حضرت ابو بکر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرنے لگے کہ غلطی میری تھی آپ عمر کو معاف کر دیں۔(صحیح البخاری کتاب فضائل اصحاب النبي " باب قول النبي " لو كنت متخذا خليلا حديث 3661)