خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 608 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 608

خطبات مسرور جلد 15 608 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 دسمبر 2017 گی۔" فرماتے ہیں کہ " یہ مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا ہے اور اُن میں جو باہمی الفت و محبت تھی اس کا نقشہ " قرآن کریم میں " دو فقروں میں بیان فرمایا ہے۔وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا الْفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهم (الانفال:64)۔یعنی جو تالیف ان میں ہے وہ ہر گز پیدا نہ ہوتی ، خواہ سونے کا پہاڑ بھی دیا جاتا۔" آپ فرماتے ہیں کہ اب ایک اور جماعت مسیح موعود کی ہے جس نے اپنے اندر صحابہ کا رنگ پیدا کرنا ہے۔صحابہ کی تو وہ پاک جماعت تھی جس کی تعریف میں قرآن شریف بھرا پڑا ہے۔" فرماتے ہیں " کیا آپ لوگ ایسے ہیں؟ جب خدا کہتا ہے کہ حضرت مسیح کے ساتھ وہ لوگ ہوں گے جو صحابہ کے دوش بدوش ہوں گے۔صحابہ تو وہ تھے جنہوں نے اپنامال، اپنا وطن راہ حق میں دے دیا۔اور سب کچھ چھوڑ دیا۔حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا معاملہ اکثر سنا ہو گا۔ایک دفعہ جب راہ خدا میں مال دینے کا حکم ہو ا تو گھر کا کل اثاثہ لے آئے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ گھر میں کیا چھوڑ آئے تو فرمایا کہ خدا اور رسول کو گھر میں چھوڑ آیا ہوں۔" آپ فرماتے ہیں کہ "رئیس مکہ ہو اور کمبل پوش۔"حضرت ابو بکر کا مقام کہ مکہ کے رئیس تھے۔مسلمان ہو گئے تو کمبل پوش ہو گئے " غربا کا لباس پہنے۔یہ سمجھ لو کہ وہ لوگ تو خدا کی راہ میں شہید ہو گئے۔ان کے لئے تو یہی لکھا ہے کہ سیفوں (تلواروں) کے نیچے بہشت ہے لیکن ہمارے لئے تو اتنی سختی نہیں کیونکہ يَضَعُ الحزب ہمارے لئے آیا ہے۔یعنی مہدی کے وقت لڑائی نہیں ہو گی۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 42-43) پھر صحابہ کے طریق زندگی کا نقشہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : " دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین کیا تنختم پسند اور خوردونوش کے دلدادہ تھے جو کفار پر غالب تھے ؟ " صرف آسانیاں چاہتے تھے۔اس لئے کفار پر غالب آگئے۔فرمایا " نہیں۔یہ بات تو نہیں۔پہلی کتابوں میں بھی اُن کی نسبت آیا ہے کہ وہ قائم اللیل اور صائم الدھر ہوں گے۔اُن کی راتیں ذکر اور فکر میں گزرتی تھیں۔اور ان کی زندگی کیسے بسر ہوتی تھی ؟ قرآن کریم کی ذیل کی آیہ شریفہ اُن کے طریق زندگی کا پورا نقشہ کھینچ کر دکھاتی ہے وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَ اللهِ وَعَدُوكُمْ (الانفال: 61)۔اور يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا (آل عمران: 201)۔اور سرحد پر اپنے گھوڑے باندھے رکھو کہ خدا کے دشمن اور تمہارے دشمن اس تمہاری تیاری اور استعداد سے ڈرتے رہیں۔اے مومنو!صبر اور مصابرت اور مرابطت کرو۔"صبر کرتے رہنا۔صبر دکھاؤ اور صبر کرو۔رباط کے معنی کیا ہیں؟ آپ فرماتے ہیں کہ "رباط ان گھوڑوں کو کہتے ہیں جو دشمن کی سرحد پر باندھے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ صحابہ کو اعداء کے مقابلہ کے لئے مستعد رہنے کا حکم دیتا ہے۔اور اس رباط کے لفظ سے انہیں پوری اور سچی تیاری کی طرف متوجہ کرتا ہے۔اُن کے سپر د دو کام