خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 605 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 605

خطبات مسرور جلد 15 50 50 605 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 دسمبر 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 15 دسمبر 2017ء بمطابق 15 فتح 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: وَالشَّبِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهرُ خَلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ - (التوبة: 100) اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت لے جانے والے اولین اور وہ لوگ جنہوں نے حسن عمل کے ساتھ ان کی پیروی کی اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے اور اس نے ان کے لئے ایسی جنتیں تیار کی ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہنے والے ہیں یہ بہت عظیم کامیابی ہے۔اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا ذکر ہے جو سبقت لے جانے والے ہیں جو روحانی مرتبہ میں سب سے اوپر ہیں اور اپنے ایمان کے معیاروں اور اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق اعمال بجالانے والوں میں باقی سب کو پیچھے چھوڑنے والے ہیں۔یہ لوگ ہیں جو سب سے پہلے ایمان لائے اور دوسروں کے لئے ، بعد میں آنے والوں کے لئے اپنی مثالیں بطور نمونہ چھوڑ گئے تاکہ دوسرے ان کے نمونوں کی تقلید کریں۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں صحابہ کو بعد میں آنے والوں کے لئے ایک قابل تقلید نمونہ بنایا ہے اور اعلان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کے معیار اور ان اعمال سے راضی ہوا جو وہ بجالاتے رہے اور انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ہر حال میں وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندوں میں شامل رہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو بھی ان نمونوں پر چلتے رہیں گے ، ایمان، اخلاص، وفا اور اعمال صالحہ بجالاتے رہیں گے وہ خد اتعالیٰ کے انعامات کے حاصل کرنے والے بنتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ نے صحابہ کے بلند مقام کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاتے ہوئے ان کی پیروی کو ہدایت پانے کا ذریعہ بنایا ہے۔چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ