خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 604 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 604

خطبات مسرور جلد 15 604 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08دسمبر 2017 مسلمان ممالک کے لیڈر جو دنیاوی خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور جنہوں نے عملاً خدا تعالیٰ کے بجائے بڑی طاقتوں کو اپنا خدا بنایا ہوا ہے اور سمجھتے ہیں کہ ان سے دوستی ہماری بقا اور ترقی کی ضمانت بن سکتی ہے حالانکہ امریکہ کے بارے میں ہی لے لیں۔ان کا حال یہ ہے کہ جرمنی کے اخبار میں ایک تجزیہ نگار نے گزشتہ دنوں مضمون لکھا۔اس نے لکھا ہے کہ اور بہت ساری باتوں میں ایک بات یہ بھی ہے کہ دنیا جو واشنگٹن کو اپنا ماڈل سمجھتی تھی، سمجھتی ہے یا اس کی طرف رخ کیا ہوا ہے یا اپنے لئے سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے لئے ایک ایسا ماڈل ہے جس کے پیچھے ہمیں چلنا چاہئے۔شاید اب اس کی وہ حیثیت نہیں رہی۔لکھتا ہے کیونکہ اس کی جگہ اب بیجنگ جو چین کا دارالحکومت ہے وہ ماڈل بن رہا ہے۔امریکہ اپنی ساکھ کھو چکا ہے اور اپنا مقام کھو چکا ہے۔پس دنیاوی سہارے تو عارضی سہارے ہیں آج آئے کل چلے گئے۔مسلمانوں کو اب اس سے سمجھنا چاہئے۔یہ جو یروشلم میں سفارت خانہ منتقل کرنے کا اعلان ہوا ہے وہ بھی اسی لئے امریکہ نے کیا ہے کہ اس طرح شاید اسرائیل کے ساتھ تعلق بہتر ہو جائیں اور زیادہ مضبوط ہو جائیں اور اس کی ساکھ قائم ہو سکے۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے زوال آتا ہے تو پھر دنیاوی دوستیاں اور معاہدے کام نہیں آیا کرتے۔لگتا ہے کہ اب ان بڑی طاقتوں پر بھی خاص طور پہ امریکہ پہ بھی یہ کام شروع ہو چکا ہے اور نتیجہ کب نکلتا ہے، یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔لیکن ان حالات میں اب مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی کوششیں مزید تیز تر ہوں گی۔اس لئے مسلمان دنیا کے لئے ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں عقل دے۔اب یہ متحد ہو جائیں اور ملکوں ملکوں کے درمیان جو جنگوں کا امکان ہے اور مسلمان ملکوں کے اندر جو آپس میں لڑائیاں ہو رہی ہیں اور ہزاروں بلکہ بعض اعداد و شمار کے مطابق لاکھوں جانیں ضائع ہو گئی ہیں یہ بھی دُور ہو۔اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے اور یہ ایک قوم بن کر رہنے والے ہوں۔آپس کی لڑائیوں کو ختم کریں تا کہ اسلام کے دشمن اپنا مفاد حاصل نہ کر سکیں اور سب سے بڑھ کر ہمیں یہ دعا بھی کرنی چاہئے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے مسیح موعود اور مہدی معہود کو پہچانیں جس کے ساتھ جڑ کر یہ آپس میں بھی اور دنیا میں بھی امن قائم کرنے والے بن سکتے ہیں۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 29 دسمبر 2017ء تا04 جنوری 2018 ء جلد 24 شمارہ 52 صفحہ 05 تا08)