خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 606
خطبات مسرور جلد 15 606 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 دسمبر 2017 میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ میں نے اپنے صحابہ کے اختلاف کے بارہ میں اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تیرے صحابہ کا میرے نزدیک ایسا مر تبہ ہے جیسے آسمان میں ستارے ہیں۔بعض بعض سے روشن تر ہیں لیکن نور ہر ایک میں موجود ہے۔پس جس نے تیرے کسی صحابی کی پیروی کی میرے نزدیک وہ ہدایت یافتہ ہو گا۔(اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہدایت یافتہ ہو گا۔) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بھی کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے جس کی بھی تم اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔(مرقاة المفاتيح شرح مشكوة جلد 11 صفحہ 162-163 كتاب المناقب باب مناقب الصحابة حديث 6018مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) پس اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو یہ مقام عطا فرمایا ہے۔ہر ایک ان میں سے ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔صحابہ کے مقام و مرتبہ اور اللہ تعالیٰ کے ان سے راضی ہونے اور اللہ تعالیٰ سے اُن کے راضی ہونے کا ذکر فرماتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : "صحابہ کرام نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں وہ صدق دکھلایا ہے کہ انہیں رضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (المجادلة: 23) کی آواز آگئی۔یہ اعلیٰ درجہ کا مقام ہے جو صحابہ کو حاصل ہوا۔یعنی اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہو گئے۔اس مقام کی خوبیاں اور کمالات الفاظ میں ادا نہیں ہو سکتے۔"کیا خوبیاں اور کتنے کمالات ہیں اس کے ؟۔الفاظ ان کا احاطہ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔فرمایا کہ " اللہ تعالیٰ سے راضی ہو جانا شخص کا کام نہیں بلکہ یہ تو گل، تتبل اور رضاو تسلیم کا اعلیٰ مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان کو کسی قسم کا شکوہ شکایت اپنے مولیٰ سے نہیں رہتی۔اور اللہ تعالیٰ کا اپنے بندہ سے راضی ہونا یہ موقوف ہے بندے کے کمال صدق و وفاداری اور اعلیٰ درجہ کی پاکیزگی اور طہارت اور کمال اطاعت پر۔" فرمایا کہ " جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نے معرفت اور سلوک کے تمام مدارج طے کر لئے تھے۔" پھر اس کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " تم اپنے دل کو پاک کرو کہ مولیٰ کریم تم سے راضی ہو جاوے۔" ہمیں نصیحت فرماتے ہیں " اور تم اس سے راضی ہو جاؤ۔" یعنی اللہ تعالیٰ سے کبھی کسی قسم کا شکوہ نہ رہے۔اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے اپنے صدق سچائی اور وفاداری کو بھی کمال تک پہنچاتا ہے۔اپنے پاکیزگی کے درجہ کو بھی اعلیٰ معیار تک پہنچانا ہے۔طہارت کو بھی اعلیٰ معیار تک لے کر جانا ہے۔اور اطاعت کے بھی اعلیٰ معیار قائم کرنے ہیں۔فرمایا کہ تم اس سے راضی اور مولیٰ کریم تم سے راضی ہو جائے۔یہ باتیں ہوں گی تو مولیٰ کریم راضی ہو گا