خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 603
خطبات مسرور جلد 15 603 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08دسمبر 2017 تدارک نہ کرے تو سلب ایمان کا خطرہ ہے۔" (الحکم 10 اگست 1901ء صفحہ 9 نمبر 29 جلد 5۔تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ البقرہ زیر آیت 166) یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔اس کی نعمت ہے کہ وہ ایسے مواقع پیدا کر دیتی ہے۔نہیں تو پھر ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔پس ایک حقیقی مومن سوچ بھی نہیں سکتا۔دنیا کے سامانوں کی محبت شہوت بن کر اس کے سامنے آجائیں گی۔اس کے لئے تقویٰ میں ترقی کرنا اور قناعت پیدا کرنا ایک مومن کے لئے انتہائی ضروری ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ متقی بنو سب سے بڑے عابد بن جاؤ گے۔خدا تعالیٰ کی محبت اور تقویٰ دل میں پیدا ہو گا تو پھر اللہ تعالیٰ کی عبودیت اور عبادت کا حق بھی انسان ادا کر سکتا ہے۔ایک حقیقی عابد کا کام یہ ہے کہ اس میں قناعت بھی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر قناعت پیدا کرو گے تو شکر گزار بھی بنو گے۔(سنن ابن ماجه كتاب الزهد باب الورع والتقوى حديث 4217) اور سب سے بڑھ کر ایک مومن خدا تعالیٰ کا شکر گزار ہوتا ہے اور ہونا چاہئے۔جو لوگ منہ سے تو بیشک یہ کہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے والے ہیں لیکن دنیاوی سامانوں اور دنیاوی جاہ و حشمت کے پیچھے دوڑنے والے حقیقت میں محبُّ الشَّهَوَات میں مبتلا ہیں وہ کبھی حقیقی شکر گزار نہیں ہو سکتے۔ایسے دنیا داروں کا نقشہ کھنچتے ہوئے ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابن آدم کے پاس سونے کی ایک وادی بھی ہو تب بھی وہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس دوسری وادی بھی آجائے۔فرمایا کہ اس کے منہ کو سوائے مٹی کے اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔قبر میں جائے گا تبھی اس کی لالچ ختم ہو گی۔اور پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو بہ قبول کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔(صحيح البخارى كتاب الرقاق باب ما يتقى من فتنة المال حديث 6438) پس زندگی میں وقت ہوتا ہے۔انسان کو چاہئے کہ اگر کوئی غلطیاں ہوں بھی تو تو بہ کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مومن کے قناعت کا معیار بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جس شخص نے دلی اطمینان اور جسمانی صحت کے ساتھ صبح کی اور اس کے پاس ایک دن کی خوراک ہے۔اس نے گویا ساری دنیا جیت لی اور اس کی ساری نعمتیں اسے مل گئیں۔(سنن الترمذی ابواب الزهد باب فى الوصف من حيزت له الدنيا حديث 2346) پس ایک مومن کے لئے یہ قناعت کا معیار ہے۔اللہ تعالیٰ ہم میں یہ قناعت پیدا کرے۔تقویٰ پیدا کرے۔دنیاوی چیزوں کی محبت کے بجائے خدا تعالیٰ سے محبت کا حصول ہمارا مقصود ہو اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رضوان ہم حاصل کرنے والے ہوں۔اس کے بعد میں اس دعا کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں جیسا کہ میں نے پہلے مختصر ذکر کیا ہے کہ