خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 602 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 602

خطبات مسرور جلد 15 602 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08دسمبر 2017 کی محبت ہے۔سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ہر وقت لوگ اسی غم و ہم میں پھنسے ہوئے ہیں۔"صرف دنیا کا غم رہ گیا ہے " اور اس وقت کا لحاظ اور خیال بھی نہیں کہ جب قبر میں رکھے جاویں گے۔ایسے لوگ اگر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور دین کے لئے ذرا بھی ہم تو غم رکھتے تو بہت کچھ فائدہ اٹھا لیتے۔" احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے ؟ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 483) پس ایک مومن کا کام ہے کہ دنیا کی فکروں میں پڑنے کی بجائے اپنی آخرت کو سنوارنے اور خدا تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کی فکر کرے۔اس میں قناعت پیدا ہو۔دنیاوی سامانوں کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں سمجھتے ہوئے استعمال تو کرے، انہیں معبود نہ بنائے یا انہی کے پیچھے دوڑتا نہ پھرے۔معبود وہی ہے جو ہمارا حقیقی معبود ہے۔محبت سب سے زیادہ خدا تعالیٰ سے ایک مومن کو کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ سے محبت ہی انسان میں پھر تقویٰ بھی پیدا کرتی ہے اور قناعت بھی پیدا کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے مومن کی یہی نشانی بتائی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبَّالِلهِ (البقرة: 166) اور جو لوگ مومن ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ سے محبت کے سلسلہ میں بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : " جانا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی غیوری محبت ذاتیہ میں کسی مومن کی اس کے غیر سے شراکت نہیں چاہتی۔" اللہ تعالیٰ کو اس بات کی بڑی غیرت ہے کہ ذاتی محبت میں کوئی شرکت نہیں ہونی چاہئے۔فرمایا کہ " ایمان جو ہمیں سب سے زیادہ پیارا ہے وہ اسی بات سے محفوظ رہ سکتا ہے کہ ہم محبت میں دوسرے کو اس سے شریک نہ کریں۔اللہ جلّ شانہ مومن کی یہ علامت فرماتا ہے وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُنَّا لِلهِ یعنی جو مومن ہیں وہ خدا سے بڑھ کر کسی سے دل نہیں لگاتے۔محبت ایک خاص حق اللہ جل شانہ کا ہے۔جو شخص اس کا حق دوسرے کو دے گا وہ تباہ ہو گا۔تمام برکتیں جو مردانِ خدا کو ملتی ہیں اور تمام قبولیتیں جو اُن کو حاصل ہوتی ہیں کیا وہ معمولی وظائف سے یا معمولی نماز وروزہ سے ملتی ہیں؟ ہر گز نہیں۔بلکہ وہ توحید فی المحبت سے ملتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت میں فنا ہونے سے ملتی ہیں۔"جو اُسی کے ہو جاتے ہیں۔اُسی کے ہو رہتے ہیں۔اپنے ہاتھ سے دوسروں کو اس کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔" فرمایا کہ " میں خوب اس درد کی حقیقت کو پہنچتا ہوں جو ایسے شخص کو ہوتا ہے کہ یکدفعہ وہ ایسے شخص سے جدا کیا جاتا ہے جس کو وہ اپنے قالب کی گویا جان جانتا تھا۔لیکن مجھے غیرت اس بات میں ہے کہ ہمارے حقیقی پیارے کے مقابل پر کوئی اور نہ ہونا چاہئے۔ہمیشہ سے میرا دل یہ فتویٰ دیتا ہے کہ غیر سے مستقل محبت کرنا جس سے الہی محبت باہر ہو خواہ وہ بیٹا ہو یا دوست، کوئی ہو، ایک قسم کا کفر اور کبیرہ گناہ ہے جس سے اگر نعمت اور رحمت الہی