خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 601
خطبات مسرور جلد 15 601 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08دسمبر 2017 جب دولت حاصل کرنے کا وقت ہو رہا ہوتا ہے، طاقت ہوتی ہے اس وقت وہ بھول جاتا ہے کہ آئندہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ " بعض اوقات جن دکھوں سے بھاگنا چاہتا ہے یکدفعہ ان میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اگر اولاد ٹھیک نہ ہو تو اور بھی دکھ اٹھاتا ہے۔اس وقت سمجھتا ہے کہ غلطی کی اور عمر یوں ہی گزر گئی۔۔۔۔۔اس وقت یاد آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنا ہی بہتر تھا اور اس کے مطابق زندگی گزارنی چاہئے تھی بجائے اس کے کہ دنیا میں پڑ کے انسان اللہ تعالیٰ کو بھول جائے۔پس بہت سے فرعون بھی گزرے۔ہامان بھی گزرے بڑے بڑے طاقتور لوگ آئے جن کی زندگیوں پر اگر انسان غور کرے تو ان سے پتا چلتا ہے کہ ان کو ان کی دنیاوی جاہ و حشمت کوئی فائدہ نہیں دے سکی۔آج کی جو حکومتیں ہیں وہ اختیارات کے لحاظ سے ان سے زیادہ طاقتور حکومتیں تھیں لیکن سب ختم ہو گئیں۔آپ فرماتے ہیں کہ " عقل مند وہی ہے جو خدا کی طرف توجہ کرے۔خدا کو ایک سمجھے اس کے ساتھ کوئی نہیں۔ہم نے آزما کر دیکھا ہے نہ کوئی دیوی نہ دیو تا کوئی کام نہیں آتا۔اگر یہ صرف خدا کی طرف نہیں جھکتا تو کوئی اس پر رحم نہیں کرتا۔اگر کوئی آفت آجاوے تو کوئی نہیں پوچھتا۔انسان پر ہزاروں بلائیں آتی ہیں۔پس یاد رکھو کہ ایک پروردگار کے سوا کوئی نہیں۔وہی ہے جو ماں کے دل میں بھی محبت ڈالتا ہے۔اگر اس کے دل کو ایسا پیدانہ کرتا تو وہ بھی پرورش نہ کر سکتی۔اس لئے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔" یہ آپ نے اس ہند و کو نصیحت کی۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 422 تا425) دیوی دیوتا ظاہری شکل میں بھی بعض مذہب میں لوگ بناتے ہیں اور یہ جو دنیاوی چیزیں ہیں، مال ہے، اولاد ہے، طاقت ہے، حکومت ہے۔یہ بھی انسان اللہ تعالیٰ کے شریک بنا کر کھڑے کر لیتا ہے۔اور پھر دوستیاں ہیں یا جیسا میں نے مثال دی کہ بعض ملک بڑے ملکوں کی پناہ میں آنا چاہتے ہیں۔ان کو خدا بنا لیتے ہیں تو یہ سب چیزیں ختم ہونے والی ہیں۔اور پھر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جہنم ایسوں کا ٹھکانہ بن جاتی ہے۔پھر ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : یہ خوب یاد رکھو کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے ہو جاوے خدا تعالیٰ اس کا ہو جاتا ہے اور خدا کسی کے دھوکے میں نہیں آتا۔اگر کوئی یہ چاہے کہ ریا کاری اور فریب سے خدا کو ٹھگ لوں گا تو یہ حماقت اور نادانی ہے۔وہ خود ہی دھو کہ کھا رہا ہے۔دنیا کے زیب، دنیا کی محبت ساری خطا کاریوں کی جڑ ہے۔اس میں اندھا ہو کر انسان انسانیت سے نکل جاتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ میں کیا کر رہا ہوں اور مجھے کیا کرنا چاہئے تھا۔جس حالت میں عقل مند انسان کسی کے دھو کہ میں نہیں آسکتا تو اللہ تعالیٰ کیونکر کسی کے دھو کہ میں آسکتا ہے۔مگر ایسے افعالِ بد کی جڑ دنیا کی محبت ہے اور سب سے بڑا گناہ جس نے اس وقت مسلمانوں کو تباہ حال کر رکھا ہے اور جس میں وہ مبتلا ہیں وہ یہی دنیا