خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 34 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 34

خطبات مسرور جلد 15 34 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2017 جیسا کہ میں نے کہا کہ میں تو ہر دوسرے تیسرے خطبہ میں نماز با جماعت یا عبادت کے بارے میں بات کرتا ہوں۔اگر اس کا اثر ہی نہیں ہونا تو صرف تعداد کی خانہ پوری کرنے کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔پاکستان میں جیسے احمدیوں کے حالات میں نے بیان کئے ہیں اگر اس کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا نہیں ہو گی تو پھر کب ہو گی ؟ کیا ہم اللہ تعالیٰ کا نعوذ باللہ امتحان لینا چاہتے ہیں کہ ہم نے تو ایسے ہی رہنا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ ہمارے حالات بدلے۔اگر یہی اظہار ہونے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ سے شکوے کا کوئی حق نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے کہیں نہیں فرمایا کہ تم جو چاہے کرتے رہو، میرے حق ادا کر دیانہ کرو کیونکہ تم نے مسیح موعود کو مان لیا ہے اس لئے میں تمہیں کامیابیاں دوں گا۔کامیابیاں حاصل کرنے کے لئے اپنی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔خدام کی رپورٹ کا میں نے ذکر کیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کمزوری صرف خدام الاحمدیہ میں ہے۔انصار کا بھی یہی حال ہے۔پس پاکستان کے ہر احمدی کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔کامیابیاں سونے سے نہیں ملیں گی۔کامیابیاں لا پرواہی سے نہیں ملیں گی۔کامیابیاں سرحدوں پر گھوڑے باندھنے اور چھاؤنیاں قائم کرنے سے ملیں گی۔پاکستان سے نکل کے جو لوگ باہر آئے ہوئے ہیں یا عمومی طور پر ہر جگہ جماعت میں ان ترقی یافتہ ممالک میں بھی اور باقی دنیا میں بھی ان کی حالت بھی یہی ہے۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ باہر آکر بڑے نمازی ہو گئے یا ہر جگہ نمازی ہیں۔جماعتوں کا جائزہ لیں تو نمازوں کے معاملہ میں بہت ساری کمزوریاں نظر آئیں گی۔انصاف سے اگر ہر ملک میں ہر تنظیم اپنے جائزے لے تو نتائج خود بخود سامنے آجائیں گے۔لیکن پاکستان سے باہر آئے ہوئے لوگ جو ہیں ان کو خاص طور پر یہ خیال رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر جو فضل کئے ہیں اس کا شکر یہ بھی ادا کرنا ہے۔اس کا اظہار کس طرح کرنا ہے۔بعض جماعتوں میں نمازوں کی اچھی حاضری ہوتی ہے لیکن پھر بھی کوئی نہ کوئی نماز کسی نہ کسی کی ضائع ہو رہی ہوتی ہے اور کئی ایسے ہیں جو بعض دفعہ ایک آدھ نماز نہیں بھی پڑھتے۔اور اس کی ایک وجہ جیسا کہ میں نے کہا یہ بھی ہے کہ نظام اس کی طرف توجہ نہیں دلاتا اور نظام کی بھی دوسری ترجیحات ہیں۔میرے خطبات اوّل تو ہر ایک سنتا ہی نہیں۔یہ کہنا کہ سو فیصد لوگ سنتے ہیں یہ بھی غلط ہے۔اور اگر سن بھی لیں تو پھر بھی مستقل یاد دہانی کروانانظام جماعت کا کام ہے۔اس لئے نظام قائم کیا گیا ہے کہ تربیت کی طرف توجہ ہو۔گزشتہ دنوں یہاں کی ایک جماعت کی مجلس عاملہ سے ملاقات تھی تو صدر صاحب نے بتایا کہ جب سے میں صدر بنا ہوں مالی نظام کی طرف میں نے بہت توجہ کی ہے اور اب ہم اس میں بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔تو میں نے انہیں کہا کہ ٹھیک ہے یہ کوشش تو آپ نے کی لیکن ایک مومن کے لئے جو بنیادی چیز ہے اور فرض ہے یعنی نماز۔اس کے لئے آپ نے کیا کوشش کی؟ تو اس بارہ میں خاموشی تھی۔گو فجر اور عشاء کی نماز کی حاضری