خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 600
خطبات مسرور جلد 15 600 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08دسمبر 2017 نہ اس میں عقل اور دماغ کی کچھ روشنی باقی رہتی ہے۔بعض وقت ایسی عمر کے بڑھوں پر عورتیں بھی ظلم کرتی ہیں کہ کبھی کبھی روٹی دینی بھی بھول جاتے ہیں۔۔۔۔اگھر والوں کا بھی بعض دفعہ بعض لوگوں سے اچھا سلوک نہیں ہو تا۔آپ فرماتے ہیں کہ " مشکل یہ ہے کہ انسان جوانی میں مست رہتا ہے اور مرنا یاد نہیں رہتا " اور اسی طرح جو با اختیار انسان ہوتا ہے وہ اس کو سمجھتا ہے کہ ہمیشہ یہی حالت رہنی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ "بُرے برے کام اختیار کرتا ہے اور آخر میں جب سمجھتا ہے تو پھر کچھ کر ہی نہیں سکتا۔غرض اس جوانی کی عمر کو غنیمت سمجھنا چاہئے۔" آپ نے وہاں مجلس میں بیٹھے ہوئے ہند و دوست شر میت کو سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ " جس قدر ارادے آپ نے اپنی عمر میں کئے ہیں ان میں سے بعض پورے ہوئے ہوں گے۔مگر اب سوچ کر دیکھو کہ وہ ایک بلبلہ کی طرح تھے جو فوراًمعدوم ہو جاتے ہیں اور ہاتھ پلے کچھ نہیں پڑتا۔گزشتہ آرام سے کوئی فائدہ نہیں۔اس کے تصور سے دکھ بڑھتا ہے۔"جب انسان گزشتہ آرام سے گزر جاتا ہے اور پھر تکلیفوں میں آجاتا ہے تو فرمایا کہ اس کو فائدہ کوئی نہیں ہو تا۔انسان اس کو سوچتا ہے تو اس سے پھر دکھ بڑھ جاتا ہے۔فرمایا کہ " اس سے عقل مند کے لئے یہ بات نکلتی ہے کہ انسان ابنُ الوقت ہو۔" اس وقت کے مطابق چلے ، پہچانے۔"ر ہی زندگی انسان کی جو اس کے پاس موجود ہے۔جو گزر گیا وہ وقت مر گیا۔اس کے تصورات بے فائدہ ہیں۔دیکھو جب ماں کی گود میں ہوتا ہے اس وقت کیا خوش ہوتا ہے۔سب اٹھائے ہوئے پھرتے ہیں۔وہ زمانہ ایسا ہوتا ہے کہ گویا بہشت ہے اور اب یاد کر کے دیکھو کہ وہ زمانہ کہاں ہے؟؟۔۔۔۔۔۔وہ بھی گزر گیا۔دنیا کی ساری چیزیں عارضی ہیں۔آسانیاں بھی عارضی ہیں۔اس لئے کسی کو جب آسانیاں ملیں، اختیارات ملیں، حکومتیں ملیں تو ان چیزوں کو سامنے رکھنا چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ " یہ زمانے پھر کہاں مل سکتے ہیں ؟" آپ ایک واقعہ حکایت، روایت بیان کرتے ہیں۔فرماتے ہیں کہ ایک بادشاہ چلا جاتا تھا۔چند چھوٹے لڑکوں کو دیکھ کر رو پڑا کہ جب سے اس صحبت کو چھوڑا دکھ پایا ہے۔" رواس لئے پڑا کہ چھوٹے بچے کھیل رہے ہیں اور ہر فکر سے آزاد ہیں۔اس کو اپنا یہی بچپن یاد آگیا کہ کیا وہ زمانہ تھا اور اب ایسا زمانہ ہے۔تو بادشاہوں کو بھی باوجود آراموں کے سکون اور چین نہیں آتا۔آپ فرماتے ہیں کہ صرف یہ ہے کہ احساس ہونا چاہئے۔آپ فرماتے ہیں کہ " پیرانہ سالی کا زمانہ بُرا ہے۔اس وقت عزیز بھی چاہتے ہیں کہ مر جاوے اور مرنے سے پہلے قومی مر جاتے ہیں۔"بعضوں عزیزوں کے دل ایسے سخت ہوتے ہیں کہ وہ مریض کی حالت دیکھ کے یا بڑھاپا دیکھ کے کہتے ہیں کہ اس نے ہمارے پر کیا بوجھ ڈالا ہوا ہے۔آپ فرماتے ہیں زندگی کے بارے میں ہی فرماتے ہیں کہ " دانت گر جاتے ہیں۔آنکھیں جاتی رہتی ہیں اور خواہ کچھ ہی ہو آخر پتھر کا پتلا ہو جاتا ہے۔شکل تک بگڑ جاتی ہے اور بعض ایسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ آخر خود کشی کر لیتے ہیں۔" اور یہ بھی ہم زمانے میں دیکھتے ہیں کہ دنیا میں اسی طرح ہو رہا ہے۔تو انسان کی تو کوئی حیثیت نہیں ہے لیکن پھر بھی جب اس کو طاقت مل رہی ہوتی ہے تو جو جوانی ہوتی ہے،