خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 599
خطبات مسرور جلد 15 599 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08دسمبر 2017 صرف کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رضا تلاش کرے اور خارش کے مریض کی طرح بن کر اپنی زندگی اور عاقبت برباد نہ کرے۔اس دنیاوی زندگی کے سامانوں اور اس کی حالت کا نقشہ کھینچتے ہوئے ایک مجلس میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ: " جس قدر انسان کشمکش سے بچا ہوا ہو اسی قدر اس کی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔" یعنی دنیاوی خواہشات، کشمکش، اس کے لئے کوششیں۔فرمایا کشمکش والے کے سینے میں آگ ہوتی ہے اور وہ مصیبت میں پڑا ہوا ہوتا ہے۔دنیا کہ اس دنیا کی زندگی میں یہی آرام ہے کہ کشمکش سے نجات ہو۔"ضرورت سے زیادہ جو کوششیں دنیا کے لئے ہیں اس سے نجات حاصل کر و۔آپ فرماتے ہیں " کہتے ہیں کہ ایک شخص گھوڑے پر سوار چلا جاتا تھا۔راستے میں ایک فقیر بیٹھا تھا جس نے بمشکل اپنا ستر ہی ڈھانکا ہوا تھا۔" تھوڑے سے کپڑے تھے۔مشکلوں سے ننگ ڈھانپا ہوا تھا اس نے اس سے پوچھا اس سوار نے " کہ سائیں جی کیا حال ہے ؟ فقیر نے اسے جواب دیا کہ جس کی ساری مرادیں پوری ہو گئی ہوں اس کا حال کیسا ہوتا ہے۔اُسے " سوار کو بڑا تعجب ہوا کہ تمہاری ساری مرادیں کس طرح حاصل ہو گئی ہیں۔فقیر نے کہا کہ جب ساری مرادیں ترک کر دیں تو گویا سب حاصل ہو گئیں۔" آپ فرماتے ہیں کہ "حاصل کلام یہ ہے کہ جب یہ سب حاصل کرنا چاہتا ہے تو تکلیف ہی ہوتی ہے لیکن جب قناعت کر کے سب کو چھوڑ دے تو گویا سب کچھ ملنا ہو تا ہے۔" فرماتے ہیں کہ "نجات اور مکتی یہی ہے کہ لذت ہو۔دکھ نہ ہو۔دکھ والی زندگی تو نہ اس جہان کی اچھی ہوتی ہے اور نہ اُس جہان کی۔۔۔۔۔" آپ نے فرمایا کہ یہ زندگی تو بہر حال ختم ہو جائے گی کیونکہ یہ برف کے ٹکڑے کی طرح ہے خواہ اس کو کیسے ہی صندوقوں اور کپڑوں میں لپیٹ کر رکھو لیکن وہ پگھلتی ہی جاتی ہے۔" آپ نے برف کے ساتھ زندگی کی یہ مثال دی کہ اسی طرح کم ہوتی جاتی ہے۔فرماتے ہیں کہ " اسی طرح پر خواہ زندگی کے قائم رکھنے کی کچھ بھی تدبیریں کی جاویں لیکن یہ سچی بات ہے کہ وہ ختم ہوتی جاتی ہے اور روز بروز کچھ نہ کچھ فرق آتا ہی جاتا ہے۔دنیا میں ڈاکٹر بھی ہیں۔طبیب بھی ہیں مگر کسی نے عمر کا نسخہ نہیں لکھا۔" کوئی یہ نسخہ لکھ کے نہیں دے سکتا کہ ہمیشہ انسان زندہ رہے گا یا اتنی عمر ہو گی۔آپ فرماتے ہیں : "جب لوگ بڑھے ہو جاتے ہیں پھر ان کو خوش کرنے کو بعض لوگ آجاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ابھی تمہاری عمر کیا ہے ؟ " تھوڑی سی عمر ہے۔ساٹھ ستر برس کی عمر ہے۔یہ بھی کوئی عمر ہوتی ہے۔اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔لیکن یہ سب عارضی باتیں ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ " انسان عمر کا خواہشمند ہو کر نفس کے دھوکوں میں پھنسا رہتا ہے۔دنیا میں عمریں دیکھتے ہیں کہ ساٹھ کے بعد تو قویٰ بالکل گداز ہونے لگتے ہیں۔بڑا ہی خوش قسمت ہوتا ہے جو استی یا بیاسی تک عمر پائے اور قوی بھی کسی حد تک اچھے رہیں ورنہ اکثر نیم سودائی سے ہو جاتے ہیں۔اسے نہ تو پھر مشورہ میں داخل کرتے ہیں " یعنی دوسرے لوگ اس سے مشورہ بھی نہیں لیتے " اور