خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 598
خطبات مسرور جلد 15 598 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08دسمبر 2017 من مانی کرتے رہیں۔سعودی عرب اب یہ اعلان کر رہا ہے کہ امریکی صدر کا فیصلہ کسی طرح بھی قابل قبول نہیں۔چند دن پہلے ہر بات میں ان کی ہاں میں ہاں ملا رہا تھا۔ایران کے خلاف اعلان پر امریکہ کی ہاں میں ہاں ملا رہا تھا۔اس وقت ان کو روکنا چاہئے تھا کہ ہم ہر مسلمان ملک کے ساتھ ہیں۔اس لئے کسی بھی بڑی طاقت کے مسلمانوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کو ہم برداشت نہیں کریں گے۔اسی طرح یمن کے خلاف جو کارروائی کر رہے ہیں ان میں بھی بڑی طاقتوں سے مدد لے رہے ہیں۔وہاں اپنی طاقت کے اظہار کے لئے ، خطے میں اپنی بادشاہت کے رعب کے لئے اور امریکی مفادات سے فائدہ اٹھانے کے لئے امریکہ کی ہاں میں ہاں ملائی۔دنیا کے عارضی سامان کے لئے خدا تعالیٰ کے حکموں سے دور چلے گئے۔اب اللہ تعالیٰ کے حکموں کی نافرمانی کا یہی نتیجہ نکلنا تھا جو نکل رہا ہے۔پھر یہ لوگ سر پر چڑھتے چلے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان لوگوں کی مثال جو صرف دنیا کی تلاش میں رہتے ہیں اور دنیاوی خواہشات کی تکمیل کی فکر میں رہتے ہیں اس خارش والے مریض کی دی ہے جس کو کھجلانے سے لذت ملتی ہے اور وہ سمجھ رہا ہو تا ہے کہ اپنے جسم کو کھجلا کر مجھے بڑی راحت محسوس ہو رہی ہے اور اس طرح وہ اپنا جسم زخمی کر لیتا ہے۔کھجلانے سے اس کو عارضی طور پر آرام مل رہا ہو تا ہے جبکہ اس کی کھال ادھڑ رہی ہوتی ہے اور بعض اپنا بے انتہا خون نکال لیتے ہیں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 155) پس یہ چیزیں جن کی انسان ضرورت سے زیادہ خواہش کرتا ہے یہ آخر میں بے چینیوں کے سامان پیدا کر رہی ہوتی ہیں۔یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہماری طاقت بڑھ رہی ہے یا ہمارے گروہ بڑے ہورہے ہیں۔لیکن اصل میں یہ لوگ اپنا ہی خون نکال رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس کے سوا ہے۔اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ اِعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا لَعِب وَلَهُوَ وَزِيْنَةٌ وَتَفَاخُرُ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرُ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْبِ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الْآخِرَةِ 69 عَذَابٌ شَدِيلٌ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللهِ وَرِضْوَانَ وَمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ (الحدید: 21 ) کہ جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل کو د اور نفس کی خواہشات کو پورا کرنے کا ایسا ذریعہ ہے جو اعلیٰ مقصد سے غافل کر دے اور سج د صبح اور باہم ایک دوسرے پر فخر کرنا ہے اور اموال اور اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرنا ہے۔اس زندگی کی مثال اس بارش کی مثال کی طرح ہے جس کی روئیدگی کفار کے دلوں کو لبھاتی ہے۔پس وہ تیزی سے بڑھتی ہے پھر تو اسے زرد ہوتا ہوا دیکھتا ہے پھر وہ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب مقدر ہے۔نیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رضوان بھی ہے جبکہ دنیا کی زندگی تو محض دھو کے کا ایک عارضی سامان ہے۔پس ایک مومن کا کام ہے کہ دنیاوی چیزوں پر فخر کرنے اور اس کے حصول کے لئے اپنی تمام تر کوششیں