خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 597
خطبات مسرور جلد 15 597 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08دسمبر 2017 نقصان بھی پیدا ہو نا شروع ہو جاتا ہے۔آجکل مسلمان ملکوں میں جو فساد کی حالت ہے وہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین سے دُور ہٹے ہوؤں کی اور دنیا داروں کی جو حالت بتائی تھی وہ مسلمانوں کی ہے۔لیڈر ہیں تو دولت سمیٹنے کے لئے عوام کی خدمت کا نعرہ لگا کر حکومت میں آتے ہیں اور پھر دونوں ہاتھوں سے وہ لوٹ مچاتے ہیں کہ تصور سے باہر ہے۔علماء کو عوام کے دین کی بہتری کی فکر کم ہے۔اصل کوشش یہ ہے کہ دین کے نام پر عوام کو اپنے پیچھے چلائیں اور کسی طرح حکومت میں آئیں یا حکومت سے مفاد اٹھائیں اور دولت اکٹھی کریں اور جائیدادیں بنائیں۔نام تو یہ اللہ کالیتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے خوف کا کوئی بھی اظہار ان کے عمل سے نہیں ہو رہا ہو تا۔پاکستان میں یہ حالات ہم عام دیکھتے ہیں۔مسلمان لیڈر مسلمان عوام کو گاجر مولی کی طرح قتل کر رہے ہیں۔کوئی حیثیت انسانی جان کی نہیں ہے۔لیکن حکومت نہیں چھوڑتے۔کئی ملکوں میں ایسی حرکتیں ہو رہی ہیں اور کوشش یہ ہے کہ ہم حکومتوں پہ بیٹھے رہیں اور اپنی طاقت کا اظہار بھی کرتے رہیں اور دولت بھی سمیٹتے رہیں۔کسی طرح ان کے پیٹ بھرتے نہیں۔کیا وجہ ہے کہ کئی مسلمان ملکوں کے پاس دولت ہے ، قدرتی وسائل ہیں اور پھر بھی ایسی بری حالت ہے کہ غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے اور ایک وقت کی روٹی مشکل سے ملتی ہے۔سعودی عرب کو یہ بڑا امیر ملک کہتے ہیں لیکن وہاں بھی اب غربت بڑھتی چلی جارہی ہے۔پہلے بھی غریب تھے اور اب اور بڑھتے جارہے ہیں۔تیل کی دولت ہونے کے باوجود غربت کی انتہا ہو رہی ہے۔صرف شہزادوں کے ، امیروں کے ، لیڈروں کے حالات اچھے ہیں۔وہ ایک ایک دن میں کئی کئی ملین ڈالر خرچ کر دیتے ہیں۔یہ لوگ دولت بھی ناجائز ذریعہ سے حاصل کرتے ہیں یا غریب کا حق مار کر حاصل کرتے ہیں اور خرچ بھی ناجائز طریق پر کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ، ان حکمرانوں کو ، ان بادشاہوں کو ، ان مفاد پرستوں کو عقل دے کہ وہ دولتیں سمیٹنے کی بجائے دولت کا صحیح استعمال کرنے والے ہوں۔اس کا صحیح مصرف کرنے والے ہوں۔اس سے جہاں یہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں گے وہاں دنیاوی اعتبار سے بھی ان کی ایک طاقت ہو گی۔غیر مسلم طاقتیں ان کو اپنے پیچھے چلانے کی بجائے اور آنکھیں دکھانے کی بجائے ان کی بات ماننے والی ہوں گی۔آجکل جو بڑا شور اٹھا ہوا ہے کہ امریکن صدر نے اپنا سفارتخانہ یروشلم میں منتقل کرنے کا کہا ہے اور اسے دار الحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔عملاً تو وہاں اسرائیل کے سارے دفاتر پہلے سے ہی موجود ہیں لیکن باہر کی دنیا نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا۔اب اس اعلان کے بعد باہر کی دنیا میں بڑا شور ہے۔لیکن وہ شور تو ہے حکومتیں مخالفت بھی کر رہی ہیں لیکن یہ سب کچھ مسلمانوں کی کمزوری کی وجہ سے ہے۔مسلمان ملکوں کی آپس کی جنگیں ہیں اور ملکوں کے اندر کی بے چینیاں جو ہیں اس نے غیروں کو بھی یہ موقع دیا ہے کہ یہ حالات پیدا کریں اور اس قسم کے اعلان کریں۔امریکی صدر یہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں میں آپس میں امن کے حالات کبھی قائم نہ ہوں اور یہ اپنی