خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 596 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 596

خطبات مسرور جلد 15 596 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08دسمبر 2017 کی نافرمانی سے روکتے رہو اور ایسا تزکیہ کرو کہ یہ امور تمہیں خدا سے غافل نہ کر دیں۔" (ملفوظات جلد 10 صفحہ 260-261) ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ " حقوق نفس تو جائز ہیں مگر نفس کی بے اعتدالیاں جائز نہیں۔" ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 248) پس یہ بات ہمیشہ ایک مومن کو اپنے سامنے رکھنی چاہئے کہ دنیاوی چیزوں کی محبت ایسی نہ ہو جو خدا تعالیٰ کو بھلا دے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس آیت میں زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوتِ کہ لوگوں کے لئے شہوات کی محبت خوبصورت کر کے دکھائی گئی ہے اور پھر آگے اس کی تفصیل بھی بیان کی کہ کون کون سی چیزیں ہیں اور یہ چیزیں ایسے لوگ صرف گزارے کے لئے نہیں چاہتے بلکہ یہ ان انسانوں کا ذکر ہے جو دنیا کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور صرف ان چیزوں کے حصول کی فکر ہے۔شہوۃ کے معنی ہیں کسی چیز کی شدید خواہش اور چاہت اور اس کی ہر وقت فکر کرتے رہنا۔اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ ایسی چیز یا مقصد جو صرف نفسانی خواہشات پر منحصر ہو۔گھٹیا ہو یا جنسی خواہش بڑھی ہوئی ہو اس کو بھی شہوۃ کہتے ہیں۔پس جب اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ ان چیزوں کی محبت انسان کے دل میں ڈالی گئی ہے تو یہ محبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے والی بات نہیں ہے بلکہ یہ شیطان کی طرف سے ہے۔یہ عام چاہت یا پسندیدگی نہیں ہے یا خوبصورتی نہیں ہے بلکہ اس حد تک اس خوبصورتی کی چاہت اور خواہش ہے کہ انسان اس کے حصول کے لئے ہر وقت بے چین اور بے قرار رہتا ہے۔ایک غیر معمولی پیار ان دنیاوی چیزوں سے رکھتا ہے۔پس جب اس حد تک انسان ان چیزوں میں ڈوب جائے تو پھر یہ صرف اللہ تعالیٰ کی نعمتیں نہیں رہتیں بلکہ یہ شیطانی خواہشات ہیں اور پھر ان کے حصول کے لئے ہر ناجائز حربہ انسان کو اختیار کرنا پڑے تو کرتا ہے اور یہ ہم دنیا داروں میں عام دیکھتے ہیں۔دولت کے لئے ، دنیاوی رتبہ کے لئے ، عورتوں سے غلط تعلقات کے لئے یہ لوگ تمام حدیں عبور کر جاتے ہیں یا شادیاں بیاہ بھی کرتے ہیں تو دولت حاصل کرنے کے لئے۔خواہش یہ ہوتی ہے کہ دولت مند بیوی لے کر آئیں۔اسی طرح دوسرے کاموں میں صرف اور صرف دنیا مد نظر ہوتی ہے۔باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسی خوبصورت اور پاکیزہ تعلیم دی ہے اور ہوشیار بھی کیا ہے کہ ان چیزوں سے بچو یعنی کہ اس حد تک نہ جاؤ کہ یہ صرف تمہارا زندگی کا مقصد بن جائے کیونکہ یہ دنیا کے عارضی سامان ہیں۔اپنی فکر کرو کہ تم نے خدا تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے اس کے حضور حاضر ہونا ہے۔بدقسمتی سے پھر بھی مسلمان اکثریت کو ہم دیکھتے ہیں کہ ان دنیاوی چیزوں کے پیچھے پڑی ہوئی ہے اور اپنی زندگی کے مقصد کو بھول گئے ہیں۔علماء بھی، قوم کے رہنما بھی اور ہر وہ شخص جس کو موقع ملتا ہے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ جس طرح بھی ہو ہم یہ دنیاوی چیزیں حاصل کریں۔جب ایسی خواہشات قوم کے لیڈروں میں پیدا ہو جائیں تو پھر ملکوں اور قوموں کو