خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 595 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 595

خطبات مسرور جلد 15 595 49 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08دسمبر 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 08 دسمبر 2017ء بمطابق 08 فتح 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ۔ذلِكَ مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَابِ (آل عمران:15) اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ لوگوں کے لئے طبعاً پسند کی جانے والی چیزوں کی یعنی عورتوں کی اور اولاد کی اور ڈھیروں ڈھیر سونے چاندی کی اور امتیازی نشان کے ساتھ داغے ہوئے گھوڑوں کی اور مویشیوں اور کھیتوں کی محبت خوبصورت کر کے دکھائی گئی ہے۔یہ دنیوی زندگی کا عارضی سامان ہے اور اللہ وہ ہے جس کے پاس بہت بہتر کوٹنے کی جگہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نقشہ کھینچا ہے یا ان لوگوں کی حالت بیان کی ہے جو خدا تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں اور دنیا کا حصول ہی ان کا مقصد ہوتا ہے اور جب انسان خدا تعالیٰ کو بھولتا ہے تو پھر شیطان اس پر قبضہ کر لیتا ہے۔گو یہ سب چیزیں خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ہیں اور ان سے فائدہ بھی اٹھانا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ہمیں بڑا واضح فرمایا کہ دنیا کے کاروباروں سے الگ ہونا بھی غلط ہے۔شادیاں کرنی بھی ضروری ہیں اور یہ سنت ہے۔اسی طرح دوسرے کام ہیں۔صحابہ بھی کیا کرتے تھے۔بعض صحابہ کی کروڑوں کی جائیدادیں تھی۔لیکن وہ رو بہ دنیا نہیں تھے۔دنیا پہ گرے ہوئے نہیں تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " یاد رکھو کہ خدا کا یہ ہر گز منشاء نہیں کہ تم دنیا کو بالکل ترک کر دو بلکہ اس کا جو منشاء ہے وہ یہ ہے کہ قد أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا (الشمس: 10)۔" یعنی جس نے نفس کو پاک کیا وہ اپنے مقصود کو پا گیا۔آپ فرماتے ہیں کہ : "تجارت کرو، زراعت کرو، ملازمت کرو اور حرفت کرو، جو چاہو کر و مگر نفس کو خدا