خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 593 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 593

خطبات مسرور جلد 15 593 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 دسمبر 2017 نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرمہ سسٹر سلمی غنی صاحبہ امریکہ کا ہے۔فلاڈلفیا میں رہتی تھیں۔20/ نومبر کو 83 سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔امیر صاحب امریکہ لکھتے ہیں کہ 1960-61ء میں چھبیس سال کی عمر میں انہوں نے بیعت کی اور جماعت میں شامل ہوئیں۔پیشے کے لحاظ سے سکول ٹیچر تھیں۔ان کو 1975-76ء کے جلسے میں ربوہ میں شمولیت کی توفیق ملی۔بہت خوشی سے وہاں کے واقعات اور حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا ذکر کیا کرتی تھیں۔ان کو تقریباً پندرہ سال بطور صدر لجنہ امریکہ خدمت کی توفیق ملی۔آپ نے بہت محنت سے کام کیا اور لجنہ اماء اللہ امریکہ کو ایک نئے لیول تک لے گئیں۔آپ کو کئی مرتبہ فلاڈلفیا کی صدر لجنہ کے طور پر بھی خدمت بجالانے کی توفیق ملی۔مرحومہ پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ تہجد کا بھی بہت خیال رکھتی تھیں۔ہمیشہ جماعت کی ترقی کے لئے کوشاں رہتی تھیں۔آپ کی بڑی خواہش تھی کہ فلاڈلفیا میں مسجد مکمل ہو اور اس کے لئے آپ دعائیں بھی کیا کرتی تھیں۔امید ہے انشاء اللہ اب جلدی مکمل ہو جائے گی۔محترم امیر صاحب لکھتے ہیں کہ مقامی صدر صاحب کا کہنا ہے کہ بحیثیت صدر جماعت میرے ساتھ ان کا بہت اطاعت کا تعلق اور تعاون تھا۔تمام ایکٹیویٹیز (activities) کو شیئر (share) کیا کرتی تھیں۔صدر صاحب مزید کہتے ہیں کہ دوماہ قبل آپ کو معدے کے کینسر کا علم ہوا۔میں وفات سے ایک ہفتہ قبل ان سے ملنے گیا تو کہنے لگیں کہ میری وصیت سن لو۔ڈاکٹر چار چھ مہینے کہتے ہیں لیکن چند دنوں کی بات ہے۔جنازہ تم نے پڑھانا ہے۔تین دن سے زیادہ انتظار نہیں کرنا۔ولنگ بارو(Willingborough) کی مسجد میں جنازہ ہو گا۔قبر کا بندوبست فلاڈلفیا میں ہو چکا ہے۔مرحومہ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔آپ کے خاندان میں کوئی احمدی یا مسلمان بھی نہیں تھا۔لیکن آپ کا دوسرے بہن بھائیوں کے ساتھ سلوک بہت اچھا تھا۔صدر لجنہ امریکہ لکھتی ہیں کہ آپ کی پرورش عیسائی ماحول میں ہوئی لیکن پندرہ سال کی عمر سے ہی آپ کے ذہن میں حضرت عیسی علیہ السلام کی صلیبی موت اور عیسائیت کے غلط عقیدہ کفارہ کے بارے میں سوال اٹھنے لگے۔آپ ایک ایسے مذہب کی تلاش میں تھیں جس سے آپ کے دل و دماغ کو اطمینان پہنچے۔اسی جستجو میں انہوں نے کیتھولک ازم کا گہرا مطالعہ کیا اور دیگر مذاہب یعنی بدھ مت، ہندو مت اور مختلف عیسائی فرقوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ہر مذہب میں اچھی تعلیمات پائیں لیکن ان میں سے کوئی مذہب آپ کی مطلوبہ توقعات پر پورا نہ اترا۔چنانچہ اسی اثناء میں آپ کے ایک دوست نے، جس نے کچھ عرصہ قبل ہی اسلام قبول کیا تھا آپ کو ایک پمفلٹ دیا جس میں لکھا تھا کہ حضرت عیسی کی وفات صلیب پر نہیں ہوئی۔اس پمفلٹ کو دیکھتے ہی آپ کی آنکھیں بھر آئیں اور آپ نے کہا کہ میں ایک بار پھر زندہ ہو گئی۔ایسا محسوس ہو تا تھا کہ ایک حصہ میرے وجود کا کئی سالوں