خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 592
خطبات مسرور جلد 15 592 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 دسمبر 2017 تھا " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا " کہ تمام جزیرہ عرب ایک سرے سے دوسرے سرے تک غلام بنا ہوا ہے۔کوئی مخالفت کے رنگ میں چوں بھی نہیں کر سکتا اور ایسا اقتدار اور رعب خدا نے دیا ہوا ہے کہ اگر چاہتے تو گل عرب کو قتل کر ڈالتے۔اگر ایک نفسانی انسان ہوتے تو ان سے ان کی کرتوتوں کا بدلہ لینے کا عمدہ موقع تھا " جو پہلے ظلم ہوتے رہے تھے۔"جب الٹ کر مکہ فتح کیا تو لاتَ تُرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْم فرمایا۔غرض اس طرح سے جو دونوں زمانے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آئے اور دونوں کے واسطے ایک کافی موقع تھا کہ اچھی طرح سے جانچے پر کھے جاتے اور ایک جوش یا فوری ولولہ کی حالت نہ تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر طرح کے اخلاق فاضلہ کا پورا پورا امتحان ہو چکا تھا اور آپ کے صبر ، استقلال، عفت، حلم، بردباری، شجاعت، سخاوت، بجو د وغیرہ وغیرہ گل اخلاق کا اظہار ہو چکا تھا اور کوئی ایسا حصہ نہ تھا کہ باقی رہ گیا ہو۔" ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 195-196) پس آج اگر حقیقی خوشی منانی ہے تو پھر آپ کے اُسوہ پر عمل کر کے منائی جاسکتی ہے جہاں عبادتوں کے معیار بھی بلند ہوں۔جہاں توحید پہ بھی کامل یقین ہو اور اعلیٰ اخلاق کے معیار بھی بلند ہوں۔اگر یہ نہیں تو ہم میں اور غیر میں کوئی فرق نہیں۔اگر ہم عمل نہیں کر رہے تو وہ لوگ جو بکھرے ہوئے ہیں اور عارضی لیڈر اور نام نہاد علماء کے پیچھے چل کر لوگوں کے لئے تنگیوں کے سامان کر رہے ہیں ان میں اور ہم میں کوئی فرق نہیں ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کا تقاضا یہی ہے کہ ہر کام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کو سامنے رکھیں۔اللہ کرے کہ اس کی ہم سب کو توفیق ملے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند مقام کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا۔وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء، امام الاصفیاء، ختم المرسلين، فخر النبيين جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اے پیارے خدا! اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تونے کسی پر نہ بھیجا ہو۔اگر یہ عظیم الشان نبی دنیا میں نہ آتا تو پھر جس قدر چھوٹے چھوٹے نبی دنیا میں آئے جیسا کہ یونس اور ایوب اور مسیح بن مریم اور ملا کی اور يحي اور زکریا وغیرہ وغیرہ ان کی سچائی پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تھی اگر چہ سب مقرب اور وجیہ اور خدا تعالیٰ کے پیارے تھے۔یہ اس نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی دنیا میں سچے سمجھے گئے۔اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَالِهِ وَ أَصْحَابِهِ أَجْمَعِيْنَ وَأَخِرُ دَعْوَانَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ" اتمام الحجة، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 308)