خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 591
خطبات مسرور جلد 15 591 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 دسمبر 2017 پس اپنے اخلاق ہر حال میں اچھے رکھنے کی ضرورت ہے اور یہی آج ایک احمدی کا شیوہ ہونا چاہیئے۔آج مسلمانوں میں جو فتنے ہیں، فساد ہیں ان کی بنیادی وجہ ہی یہی ہے کہ اخلاق کے معیار گر گئے ہیں۔آنحضرت صلی ظلم کے اُسوہ کو لوگ بھول گئے ہیں اور صرف زبانی دعوے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل نمونہ کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساری باتوں کے کامل نمونہ ہیں۔آپ کی زندگی میں دیکھو کہ آپ عور توں کے ساتھ کیسی معاشرت کرتے تھے۔" فرماتے ہیں کہ " میرے نزدیک وہ شخص بزدل اور نامرد ہے جو عورت کے مقابلے میں کھڑا ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی کو مطالعہ کرو تا تمہیں معلوم ہو کہ آپ ایسے خلیق تھے۔باوجودیکہ آپ بڑے بارعب تھے لیکن اگر کوئی ضعیفہ عورت بھی آپ کو کھڑا کرتی تو آپ اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک کہ وہ اجازت نہ دے۔آپ سودے خود خرید لایا کرتے تھے۔ایک بار آپ نے کچھ خریدا تھا۔ایک صحابی نے عرض کی کہ حضور مجھے دے دیں۔آپ نے فرمایا کہ جس کی چیز ہو اس کو ہی اٹھانی چاہئے۔"حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ " اس سے یہ نہیں نکالنا چاہئے کہ آپ لکڑیوں کا گٹھا بھی اٹھا کر لایا کرتے تھے۔" فرماتے ہیں کہ " غرض ان واقعات سے یہ ہے کہ آپ کی سادگی اور اعلیٰ درجے کی بے تکلفی کا پتا لگتا ہے۔" (ملفوظات جلد 4 صفحہ 44-45) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھو کہ آپ کی نبوت کے زمانے میں سے تیرہ سال مصائب اور شدائد کے تھے اور دس سال قوت و ثروت اور حکومت کے۔مقابل میں کئی قومیں۔اول تو اپنی ہی قوم تھی۔یہودی تھے۔عیسائی تھے۔بت پرست قوموں کا گروہ تھا۔مجوس تھے وغیرہ۔جن کا کام کیا ہے ؟ بت پرستی۔جو ان کا حقیقی خدا کے اعتقاد سے پختہ اعتقاد اور مسلک تھا۔وہ کوئی کام کرتے ہی نہ تھے جو ان بتوں کی عظمت کے خلاف ہو۔شراب خوری کی یہ نوبت کہ دن میں پانچ مرتبہ یاسات مرتبہ شراب بلکہ پانی کی بجائے شراب ہی سے کام لیا جاتا تھا۔حرام کو تو شیر مادر جانتے تھے اور قتل وغیرہ تو ان کے نزدیک ایک گاجر مولی کی طرح تھا۔غرض گل دنیا کی اقوام کا نچوڑ اور گندے عقائد کا عطر ان کے حصہ میں آیا ہوا تھا۔اس قوم کی اصلاح کرنی اور پھر ان کو درست کرنا اور پھر اس پر زمانہ وہ کہ یکا و تنہا بے یار و مدد گار پھرتے ہیں۔کبھی کھانے کو ملا اور کبھی بھوکے ہی سور ہے۔جو چند ایک ہمراہی ہیں ان کی بھی ہر روز بُری گت بنتی ہے۔" یعنی مکہ میں بہت برے حالات تھے۔فاقوں تک نوبت آتی تھی اور جو ساتھی تھے ، مسلمان ہونے والے تھے ان کو بھی روز ماریں پڑا کرتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ " بے کس اور بے بس۔اِدھر کے اُدھر اور اُدھر کے ادھر مارے مارے پھرتے ہیں۔وطن سے بے وطن کر دیئے گئے ہیں۔" پھر آپ فرماتے ہیں کہ " پھر دوسر ازمانہ