خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 33 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 33

خطبات مسرور جلد 15 33 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2017 ظاہری نمازیں ہوتی ہیں وہ اس کی روح کو نہیں سمجھتے۔پس یہ بہت ہی قابل فکر بات ہے جس پر ہم میں سے ہر ایک کو اپنی حالت کا جائزہ لینا چاہئے۔اگر ہمیں لذت و سرور آرہا ہو یا یہ پکا ارادہ ہو کہ میں نے لذت اور سرور حاصل کرنا ہے تو کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے کوئی اپنی نمازوں میں با قاعدگی اختیار نہ کرے۔ہر ایک کو کبھی نہ کبھی اس لذت و سرور کا تجربہ ہو جاتا ہے اور ہوا ہو گا۔مشکل اور پریشانی میں جب کوئی ہو تا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ نمازوں میں بہت سے ایسے ہیں جو بڑے روتے ہیں، گڑ گڑاتے ہیں۔چلتے پھرتے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں۔اس کی طرف توجہ رہتی ہے اور اسی وجہ سے پھر عبادت کی طرف بھی توجہ رہتی ہے تو کوئی نہ کوئی ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے اور کچھ نہ کچھ توجہ پیدا ہو رہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ تکلیف کی صورت میں مستقل دعاؤں میں لگے رہتے ہیں۔لیکن جب اپنی خواہشات پوری ہو جائیں، جب مشکلات سے نکل جائیں تو پھر بہت سارے ایسے ہیں جن کی نمازوں میں ، عاجزانہ دعاؤں میں سستی پیدا ہو جاتی ہے۔پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ہمیں مسلسل کوشش سے اپنے سامنے یہ ٹارگٹ رکھنا ہے کہ چاہے حالات اچھے ہوں یا برے، تنگی میں بھی اور کشائش میں بھی اس لذت و سرور کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے جو نشہ کی کیفیت طاری کر دے اور صرف ذاتی حالات ہی نہیں ایک مومن کو تو معاشرے کے عمومی حالات بھی جو ہیں وہ بھی درد پیدا کرنے والے ہونے چاہئیں اور جب یہ درد کی کیفیت ہوتی ہے تو پھر درد سے دعائیں بھی نکلتی ہیں۔پاکستان میں مثلاً جماعتی حالات بہت خراب ہیں۔ہر طرف سے افراد جماعت کے خلاف نفرتوں کے تیر برسائے جارہے ہیں۔بعضوں اور کینوں کے اظہار ہو رہے ہیں۔ملاؤں کے خوف سے یا ان کی باتوں سے غلط فہمی پیدا ہونے کی وجہ سے پرانے تعلق والے غیر از جماعت بھی بعض جگہ مخالفتوں میں بڑھتے چلے جارہے ہیں۔عمومی طور پر بھی دیکھیں تو ان ظلموں کی انتہا ہو چکی ہے۔ایسے میں پاکستان میں تو ہر احمدی کو جہاں لذت و سرور والی نمازیں پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے وہاں مسجدوں کو آباد کرنے کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔گزشتہ دنوں خدام الاحمدیہ پاکستان کی طرف سے شوریٰ کے فیصلہ جات کی تعمیل کی ایک رپورٹ آئی جس میں انہوں نے لکھا کہ تعداد کے لحاظ سے تربیتی فیصلہ جات میں ہم نے یہ یہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔بڑی اچھی بات ہے۔ترقی کی طرف قدم بڑھے ہیں۔ان تربیتی امور کی بہت سی باتوں میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ میرا خطبہ جمعہ سننے کی طرف اتنے ہزار خدام کی توجہ پیدا ہوئی ہے۔لیکن جو قابل فکر بات ہے وہ یہ کہ نماز باجماعت کے عادی جمعہ کا خطبہ سننے والوں کا قریباً تیسر ا حصہ تھے یا اس سے تھوڑا سا زیادہ تھے۔اسی طرح نمازوں کے عادی خدام کی تعداد بھی خطبہ سننے والوں سے کافی کم تھی۔ایسا خطبہ سنے کا کیا فائدہ جس سے ہماری توجہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف نہ ہو اور اس بنیادی فرض کی طرف نہ ہو جو انتہائی ضروری ہے۔