خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 590 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 590

خطبات مسرور جلد 15 590 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 دسمبر 2017 قرآن شریف میں موجود ہے۔لکھا ہے کہ ایک اندھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر قرآن شریف پڑھا کرتا تھا۔ایک دن آپ کے پاس عمائد مکہ اور رؤوسائے شہر جمع تھے اور آپ ان سے گفتگو میں مشغول تھے۔باتوں میں مصروفیت کی وجہ سے کچھ دیر ہو جانے سے وہ نابینا اٹھ کر چلا گیا۔یہ ایک معمولی بات تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق سورۃ نازل فرما دی۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر میں گئے اور اسے ساتھ لا کر اپنی چادر مبارک بچھا کر بٹھایا۔" حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں کہ "اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں عظمت الہی ہوتی ہے ان کو لازماً خاکسار اور متواضع بنا ہی پڑتا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی بے نیازی سے ہمیشہ ترساں ولرزاں رہتے ہیں۔" آپ فرماتے ہیں کہ " جس طرح اللہ تعالیٰ نکتہ نواز ہے۔اس طرح نکتہ گیر بھی ہے۔اگر کسی حرکت سے ناراض ہو جاوے تو دم بھر میں سب کار خانہ ختم ہے۔پس چاہئے کہ ان باتوں پر غور کرو اور ان کو یادر کھو اور عمل کرو۔" ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 343-344) آپ کی سیرت کا اور اُسوہ کا مضمون تو نہ ختم ہونے والا مضمون ہے۔ہر خُلق میں آپ کا عظیم نمونہ ہے اور کیوں نہ ہو۔آپ ایک عظیم معلم ہیں اور معلم اخلاق ہیں۔اگر کوئی برا بھی ہے جو آپ کے پاس آیا تو آپ اس سے بھی اخلاق سے پیش آئے۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ یہ اپنے گھرانے میں بہت ہی بر ابھائی ہے۔مطلب سلوک اچھا نہیں ہے اپنے بھائی کی حیثیت سے۔اور اپنے خاندان کا بہت ہی بُرا بیٹا ہے۔جب وہ آکر بیٹھ گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے نہایت خوش اخلاقی سے گفتگو فرمائی۔باوجود اس کے کہ وہ بُرا بھائی تھا اور بُرا بیٹا تھا اور اس میں بد اخلاقیاں تھیں۔آپ نے اس سے نہایت خوش اخلاقی سے گفتگو فرمائی۔جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ! جب آپ نے اسے دیکھا تو آپ نے اس کے بارے میں فلاں فلاں بات کی تھی اور پھر اس سے گفتگو کے دوران آپ نے کمال خندہ پیشانی کا مظاہرہ فرمایا۔آپ صلی اللہ علیہ السلام نے فرمایا عائشہ !تُو نے کب مجھے بد زبانی کرتے ہوئے پایا ہے۔آپؐ فرماتے ہیں کہ یقیناً سب سے بڑا آدمی اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن وہ ہو گا جس کی بدی سے ڈر کر لوگ اس کی ملاقات چھوڑ دیں۔(صحيح البخارى كتاب الأدب باب لم يكن النبي " فاحشا ولا متفحشا حديث 6032) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک موقع پر پوچھا گیا کہ یارسول اللہ ! مجھے کس طرح پتا چلے کہ میں اچھا کر رہاہوں یا برا کر رہاہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم اپنے پڑوسی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم اچھے ہو تو سمجھو کہ تمہارا طرز عمل اچھا ہے۔اور جب پڑوسی کہے کہ تم بڑے ہو اور تمہارا رویہ بُرا ہے پھر سمجھ لو کہ تم بُرے ہو اور تمہارا رویہ جو ہے وہ صحیح نہیں ہے۔(سنن ابن ماجه کتاب الزهد باب الثناء الحسن حدیث 4223)