خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 589 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 589

خطبات مسرور جلد 15 589 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 دسمبر 2017 آپ نے ایسے وقت میں دنیا سے انتقال فرمایا جبکہ لاکھوں انسان شرک اور بت پرستی کو چھوڑ کر توحید اور راہ راست اختیار کر چکے تھے اور در حقیقت یہ کامل اصلاح آپ ہی سے مخصوص تھی کہ آپ نے ایک قوم وحشی سیرت اور بہائم خصلت کو انسانی عادات سکھلائے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ بہائم کو انسان بنایا اور پھر انسانوں سے تعلیم یافتہ انسان بنایا۔اور پھر تعلیم یافتہ انسانوں سے باخدا انسان بنایا۔اور روحانیت کی کیفیت ان میں پھونک دی اور کچے خدا کے ساتھ ان کا تعلق پیدا کر دیا۔" (لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 206-207) پس اگر حقیقی مسلمان کہلانا ہے، اگر سچے خدا کے ساتھ تعلق پیدا کرنے والا بننا ہے تو پھر سچائی کے معیاروں کو بلند کرنے کی ضرورت ہے اور آج اگر کوئی اس کا حق ادا کر سکتا ہے تو احمدی کر سکتے ہیں کہ انہوں نے زمانے کے امام سے یہ عہد کیا ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کریں گے۔پس اس کو صرف عہد تک ہی نہ رہنے دیں بلکہ ہر احمدی کا ہر عمل اس کا گواہ ہوناچاہئے تبھی عہد کی سچائی ظاہر ہو گی۔ایک خُلق عظیم عجز و انکسار ہے یا کہہ سکتے ہیں عجز و انکسار میں بھی آپ کا خُلق اپنی عظمتوں کو چھورہا تھا۔آپ کے عجز وانکسار کا ذکر کرتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ صحابہ میں سے یا اہل بیت میں سے ، گھر والوں میں سے کسی نے آپ کو بلایا ہو اور آپ نے اس کو لبیک کہہ کر جواب نہ دیا ہو۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اسی وجہ سے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم:05) کہ تُو خُلق عظیم پر فائز کیا گیا ہے۔( تفسیر در منثور جلد 8 صفحه 226 سورة القلم زير آيت انك لعلى خلق عظيم مطبوعه دار احیاء التراث العربي بيروت 2001ء) حضرت علی روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کی طرف رُخ پھیر تے تو پورا رخ پھیرتے۔نظر ہمیشہ نیچی رہتی۔لگتا کہ زمین کی طرف آپ کی زیادہ نظر پڑتی ہے۔ہر ملنے والے کو سلام میں پہل کرتے۔(الشمائل المحمديه لامام ترمذى باب ما جاء فى خلق رسول اللہ حدیث 8 صفحہ 38 مطبوعه المكتبة التجارية مصطفی احمد الباز مکه 1993ء) آپ نے فرمایا میں بنی آدم کا سردار ہوں مگر اس میں کوئی فخر کی بات نہیں ہے۔قیامت کے دن میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلا ہوں گا جس کی شفاعت قبول کی جائے گی لیکن اس میں کوئی فخر کی بات نہیں اور قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا لیکن اس میں کوئی فخر نہیں۔(سنن ابن ماجه كتاب الزهد باب ذكر الشفاعة حديث 4308) یہ عاجزی کی انتہا ہے جو آپ کے ہر قول اور فعل سے ظاہر ہوتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " خالی شیخیوں سے اور بے جا تکبر اور بڑائی سے پر ہیز کرنا چاہئے اور انکساری اور تواضع اختیار کرنی چاہئے۔دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ حقیقتا سب سے بڑے اور مستحق بزرگی تھے ان کے انکسار اور تواضع کا ایک نمونہ