خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 588
خطبات مسرور جلد 15 588 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 دسمبر 2017 پھر ابو جہل آپ کے سچے ہونے کا یعنی سچ بولنے کا انکار کبھی نہیں کر سکا۔اس نے کہا کہ میں تمہیں جھوٹا نہیں کہتا لیکن جو تعلیم لائے ہو وہ غلط ہے کیونکہ تم ہمارے بتوں کے خلاف بول رہے ہو۔(سنن الترمذی ابواب تفسير القرآن باب ومن سورة الانعام حديث 3064) ابوسفیان نے بھی ہر قل کے دربار میں یہی کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور ہمیشہ سچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں۔(صحيح البخارى كتاب بدء الوحى باب كيف كان بدء الوحى الى رسول الله اللہ حدیث 7) پس دشمن سے دشمن بھی آپ کو کبھی جھوٹا نہیں کہہ سکا اور یہی آپ کی نبوت کے سچا ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے۔یہودی عالم نے آپ کے چہرہ کو دیکھ کر کہا تھا کہ یہ جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔(سنن الترمذى ابواب صفة القيامة باب افشوا السلام حدیث 2485) پس آج بھی آپ کی تعلیم اور عمل کی سچائی کے اعلیٰ معیار ہیں جو غیر مسلموں کو اسلام کے قریب کر سکتے ہیں۔یہ جھوٹ فریب اور دھو کہ اسلام کے خلاف نفرتوں میں بڑھا تو سکتا ہے، اسلام کے قریب نہیں لا سکتا۔یہ دنیاداری کی باتیں اور اپنی حکومتوں کو قائم کرنا اور نام نہاد علماء کا جھوٹ کی بنیاد پر اپنے منبروں کو سنبھالنا یہ کبھی اسلام کی برتری ثابت نہیں کر سکتا۔پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلتے ہوئے احمدیوں کو اپنی سچائی کے معیار بلند کرنے کی ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے تاکہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کے پھیلانے میں آسانی پیدا ہو۔تبلیغ کے لئے ضروری ہے کہ قول و عمل ایک ہو۔اگر عمل میں سچائی نہیں تو لوگ دینی تعلیم کو بھی جھوٹا سمجھیں گے۔خدا تعالیٰ کی ذات ایک سچائی ہے۔دین اسلام ایک سچائی ہے۔اس سچائی کو پھیلانا اور سچ کے ذریعہ سے پھیلانا آج ہمارا کام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ایک عقل مند کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اسلام سے کچھ دن پہلے تمام مذاہب بگڑ چکے تھے اور روحانیت کھو چکے تھے۔پس ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اظہار سچائی کے لئے ایک مجدد اعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے۔اس فخر میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپ نے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا اور پھر آپ کے ظہور سے وہ تاریکی نور سے بدل گئی۔جس قوم میں آپ ظاہر ہوئے آپ فوت نہ ہوئے جب تک کہ اس تمام قوم نے شرک کا چولہ اتار کر توحید کا جامہ نہ پہن لیا اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ لوگ اعلیٰ مراتب ایمان کو پہنچ گئے اور وہ کام صدق اور وفا اور یقین کے ان سے ظاہر ہوئے کہ جس کی نظیر دنیا کے کسی حصہ میں پائی نہیں جاتی۔یہ کامیابی اور اس قدر کامیابی کسی نبی کو بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نصیب نہیں ہوئی۔یہی ایک بڑی دلیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ہے کہ آپ ایک ایسے زمانے میں مبعوث اور تشریف فرما ہوئے جبکہ زمانہ نہایت درجہ کی ظلمت میں پڑا ہوا تھا اور طبعاً ایک عظیم الشان مصلح کا خواستگار تھا اور پھر