خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 587 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 587

خطبات مسرور جلد 15 587 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 دسمبر 2017 ہے کہ "يَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ (محمد : 13)" یعنی اس طرح کھاتے ہیں جس طرح جانور کھاتے ہیں۔جانوروں والی حالت ہے۔یہ تو ان کی کفر کی حالت تھی۔پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تاثیرات نے ان میں تبدیلی پیدا کی تو ان کی یہ حالت ہو گئی يَبِيتُونَ لِرَهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا (الفرقان: 65) یعنی وہ اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے راتیں کاٹ دیتے ہیں۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "جو تبدیلی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے وحشیوں میں کی اور جس گڑھے سے نکال کر جس بلندی اور مقام تک انہیں پہنچایا اس ساری حالت کے نقشے کو دیکھنے سے بے اختیار ہو کر انسان رو پڑتا ہے کہ کیا عظیم الشان انقلاب ہے جو آپ نے کیا۔" آپ فرماتے ہیں کہ "دنیا کی کسی تاریخ اور کسی قوم میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔یہ نری کہانی نہیں۔یہ واقعات ہیں جن کی سچائی کا ایک زمانہ کو اعتراف کرنا پڑا ہے۔" ( ملفوظات جلد 9 صفحہ 144-145) پس پہلوں سے ملنے والی آخرین کی اس جماعت کے افراد کا بھی فرض بنتا ہے کہ اس اُسوہ کی پیروی کرتے ہوئے جیسے صحابہ نے عبادتوں کے معیار بلند کئے ہم بھی اپنی عبادتوں کے معیار بلند کریں اور صرف دنیا داری میں ہی نہ ڈوبے رہیں۔ذیلی تنظیمیں اور جماعتی نظام یہ رپورٹ دیتے ہیں کہ ہمارے اتنے فیصد نماز پڑھنے والے ہو گئے۔چالیس فیصد۔پچاس فیصد۔ساٹھ فیصد۔ہم تو جب تک سو فیصد عابد پیدا نہ کر لیں ہمیں چین سے نہیں بیٹھنا چاہئے اور صرف نظام نہیں بلکہ ہر شخص کو خود جائزہ لینا چاہئے کہ میں کس حالت میں ہوں۔پھر صدق و سچائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا اُسوہ تھا ؟ آپ کے اشد ترین دشمن نضر بن حارث کی گواہی سنیں۔ایک مرتبہ سردارانِ قریش جمع ہوئے جن میں ابو جہل اور نظر بن حارث بھی شامل تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جب کسی نے یہ کہا کہ انہیں جادو گر مشہور کر دیا جائے یا جھوٹا قرار دیا جائے تو نضر بن حارث کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اے گروہ قریش! ایسا معاملہ تمہارے سامنے آگیا ہے جس کے مقابلے کے لئے تم کوئی تدبیر نہیں کر سکے۔کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں ایک جوان لڑکے تھے اور تم میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔سب سے زیادہ سچ بولنے والے تھے۔تم میں سب سے زیادہ امانت دار تھے۔اب تم نے ان کی کنپٹیوں میں عمر کے آثار دیکھے یعنی سفید بال آنے شروع ہوئے اور جو پیغام وہ لے کر آئے تو تم نے کہا کہ وہ جادو گر ہے۔ان میں جادو کی کوئی بات نہیں۔ہم نے بھی جادو گر دیکھے ہوئے ہیں۔تم نے کہا وہ کا اہن ہے۔ہم نے بھی کا ہن دیکھے ہوئے ہیں۔وہ ہر گز کا ہن نہیں ہیں۔تم نے کہا وہ شاعر ہے۔ہم شعر کی تمام قسمیں جانتے ہیں۔وہ شاعر نہیں ہے۔تم نے کہا وہ مجنون ہے۔اس میں جنون کی کوئی علامت نہیں۔اے گروہ قریش! مزید غور کر لو تمہارا واسطہ ایک بہت بڑے معاملے سے ہے۔(سیرت ابن هشام جزء اول صفحه 192 باب عتبة بن ربيعة يفاوض الرسول " مطبوعه دار الكتب العربي بيروت 2008ء)