خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 586
خطبات مسرور جلد 15 586 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 دسمبر 2017 ہے۔اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔" (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 118-119) پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل کر ہی حقیقی توحید کا علم ہو سکتا ہے۔آپ کے اسوہ پر عمل کر کے ہمی ہم اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتے ہیں اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے کی بنیاد ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے کیا اعلیٰ معیار تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کی نماز تہجد کی کیفیت بیان فرماتے ہوئے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے تھے۔مگر وہ اتنی پیاری اور لمبی اور حسین نماز ہوا کرتی تھی کہ اس نماز کی لمبائی اور حسن و خوبی کے بارے میں مت پوچھو۔(صحیح البخاری کتاب التهجد باب قیام النبی الله باللیل فی رمضان وغیرہ حدیث 1147) الفاظ وہ کیفیت بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ نماز پڑھتے ہوئے ایک صحابی نے آپ کو دیکھا۔یعنی علیحدگی میں جب آپ نفل پڑھ رہے تھے۔تو وہ کہتے ہیں کہ اس وقت شدت گریہ وزاری کے باعث آپ کے سینے سے ایسی آوازیں آرہی تھیں کہ جیسے چٹی کے چلنے کی آواز ہوتی ہے (سنن ابی داؤد كتاب الصلوة باب البكاء في الصلوة حديث 904) یا ایک روایت میں یہ ہے کہ جس طرح ہنڈیا میں پانی ابلنے کی آواز ہوتی ہے۔(سنن النسائى كتاب السهو باب البكاء فى الصلوة حديث 1215) روایتوں میں یہ بھی آتا ہے کہ بعض دفعہ نماز میں کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے اور متورم ہو کر پھٹ جاتے تھے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! آپ اتنی تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام قصور معاف فرما دیے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اَفَلَا اُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا کہ کیا میں یہ نہ چاہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بنوں۔(صحيح البخارى كتاب تفسير القرآن باب ليغفرلك الله ما تقدم من ذنبك۔۔۔حديث 4837) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے ان معیاروں نے صحابہ میں کیا انقلاب پیدا کیا، یہ بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ خواہ کیسا ہی پکادشمن ہو اور خواہ وہ عیسائی ہو یا آریہ جب وہ ان حالات کو دیکھے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عرب کے تھے اور پھر اس تبدیلی پر نظر کرے گا جو آپ کی تعلیم اور تاثیر سے پید اہوئی تو اسے بے اختیار آپ کی حقانیت کی شہادت دینی پڑے گی۔موٹی سی بات ہے کہ قرآن مجید نے ان کی پہلی حالت کا تو یہ نقشہ کھینچا ہے۔" آپ کے ماننے والے جو عرب کے لوگ تھے ان کی پہلی حالت کا تو یہ