خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 585 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 585

خطبات مسرور جلد 15 585 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 دسمبر 2017 رکھنے سے دستبردار ہو جا۔بخدا مجھے تیری کچھ بھی حاجت نہیں۔میں احکام الہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رکوں گا۔مجھے اپنے مولیٰ کے احکام جان سے زیادہ عزیز ہیں۔بخدا اگر میں اس راہ میں مارا جاؤں تو چاہتا ہوں کہ پھر بار بار زندہ ہو کر ہمیشہ اسی راہ میں مر تارہوں۔یہ خوف کی جگہ نہیں بلکہ مجھے اس میں بے انتہا لذت ہے کہ اس کی راہ میں دکھ اٹھاؤں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر کر رہے تھے اور چہرہ پر سچائی اور نورانیت سے بھری ہوئی رفت نمایاں ہو رہی تھی اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر ختم کر چکے تو حق کی روشنی دیکھ کر بے اختیار ابو طالب کے آنسو جاری ہو گئے اور کہا کہ میں تیری اس اعلیٰ حالت سے بے خبر تھا۔تو اور ہی رنگ میں اور اور ہی شان میں ہے۔جا اپنے کام میں لگارہ۔جب تک میں زندہ ہوں جہاں تک میری طاقت ہے میں تیر اساتھ دوں گا۔" (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 110-111) آج ہم احمدیوں پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو ماننے کی وجہ سے یہ کافر ہیں۔یہ واقعہ جو میں نے ابھی بیان کیا یہ ہم تاریخ میں پڑھتے اور سنتے ہیں لیکن جس بے اختیاری اور دلی کیفیت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو بیان فرمایا ہے اس سے آپ کے عشق محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی اظہار ہوتا ہے اور اس توسط سے پھر خدا تعالیٰ سے عشق کے راستے بھی نظر آتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دکھائے۔پھر عشق محمد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے اس پہلو کے بارے میں مزید بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: " پس میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے صلی علیکم۔" ہزار ہزار درود اور سلام اس پر۔یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اس نے خدا اسے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔" یہ دو چیزیں ہیں۔اللہ تعالیٰ سے محبت اور بنی نوع کی ہمدردی میں اپنے آپ کو فنا کر لینا۔" اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔وہی ہے جو سر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعوی کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذرتیت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے۔جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم از لی ہے۔ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ہم کافر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا