خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 584 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 584

خطبات مسرور جلد 15 584 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 دسمبر 2017 نیچی رکھا کرو۔دکھ دینے سے بچو کہ یہ راستے کا حق ہے۔سلام کا جواب دو کہ یہ راستے کا حق ہے۔نیک بات کی تلقین کرو اور بری بات سے روکو کہ یہ راستے کا حق ہے۔(صحيح البخارى كتاب المظالم والغضب باب افنية الدور والجلوس فيها۔۔۔الخ حديث 2465) لیکن یہ لوگ تو ناموس رسالت کے نام پر راستے بند کر کے لوگوں کو تکلیف میں ڈال رہے تھے۔اس کے باوجود یہ لوگ اپنے زعم میں دین کے ٹھیکیدار ہیں اور اپنی مرضی کے معیار کے مطابق جس کو چاہیں کا فر بنا دیں اور جس کو چاہیں مومن بنادیں۔بہر حال یہ تو ان کے عمل ہیں جو ان کے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور آپ کے اُسوہ سے ان چیزوں کا ڈور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔یہ لوگ جو چاہیں کرتے رہیں لیکن ہم احمدیوں کا کام ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے ہر پہلو کو دیکھیں اور اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کریں۔اپنی تمام تر طاقتوں اور استعدادوں کے مطابق کوشش کریں۔اس وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعض پہلو بیان کروں گا۔اللہ تعالیٰ سے جو آپ کو محبت تھی اسے بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذات کے عاشق زار اور دیوانہ ہوئے اور پھر وہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی (ملفوظات جلد 6 صفحہ 273) کو نہیں ملا۔آپ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلَى رَبِّهِ۔یعنی محمد اپنے رب پر عاشق ہو گیا " ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالیٰ سے عشق و محبت کے بارے میں بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں کہ : " جب یہ آیتیں اتریں کہ مشرکین رجس ہیں۔پلید ہیں۔شَرُّ الْبَرِيَّہ ہیں۔سُفَهَاء ہیں اور ذُریت شیطان ہیں اور ان کے معبود وَقُودُ النّار اور حصب جہنم ہیں۔تو ابو طالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر کہا کہ اے میرے بھتیجے اب تیری دشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہو گئی ہے اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کریں اور ساتھ ہی مجھ کو بھی۔تُونے ان کے عقلمندوں کو سفیہ قرار دیا اور ان کے بزرگوں کو شر البریہ کہا اور ان کے قابلِ تعظیم معبودوں کا نام ہیزم جہنم اور وَقُودُ النَّار رکھا اور عام طور پر ان سب کور جس اور ذریت شیطان اور پلید ٹھہرایا۔میں تجھے خیر خواہی کی راہ سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دشنام دہی سے باز آجاور نہ میں قوم کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتا۔" یہ آپ کے چچانے آپ کو کہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں کہا کہ اے چا! یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہار واقعہ ہے اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو کام ہے جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔اگر اس سے مجھے مرنا در پیش ہے تو میں بخوشی اپنے لئے اس موت کو قبول کرتا ہوں۔میری زندگی اسی راہ میں وقف ہے۔میں موت کے ڈر سے اظہارِ حق سے رک نہیں سکتا۔اور اے چا اگر تجھے اپنی کمزوری اور اپنی تکلیف کا خیال ہے تو تو مجھے پناہ میں