خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 583 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 583

خطبات مسرور جلد 15 583 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 دسمبر 2017 جوش سے منارہے ہیں اس میں بجائے یہ عہد کرنے کے کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم تیرے اُسوہ پر چلتے ہوئے رحمتیں ہر طرف پھیلائیں گے اکثر مسلمان ملکوں میں فتنہ وفساد کی کیفیت ہے۔آج تو اس خوشی کے دن ہر مسلمان کے عمل سے یہ ظاہر ہونا چاہئے تھا کہ ہم جس نبی کے ماننے والے ہیں وہ امن و سلامتی کا بادشاہ ہے۔وہ دنیا کے لئے رحمت ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے اعلیٰ نمونے قائم کرنے والا ہے۔وہ اخلاق کے اعلیٰ ترین معیار پر فائز ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس کی سنت پر چلنے والے ہیں۔پس ہم سے آج کے دن اس نبی کی پیدائش کے دن کی خوشی میں محبت، پیار اور امن وسلامتی کے چشمے جاری ہوں گے کہ یہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماننے والوں سے کہا ہے اور یہی ان سے توقع رکھی ہے اور یہی ان کو تعلیم دی ہے لیکن اس کے بر عکس مسلمان ملکوں میں فساد کی کیفیت طاری ہے جیسا کہ میں نے کہا بلکہ بعض جگہ پہ غیر مسلم دنیا بھی مسلمانوں کی وجہ سے خوفزدہ ہے۔پاکستان میں اس خوف کے مارے کہ فتنہ و فساد کی آگ ایک جگہ سے دوسری جگہ نہ چلی جائے بعض شہروں میں آج موبائل فون کی سروس بند کر دی گئی ہے۔پولیس کی بھاری نفری ہر چوک اور ہر سڑک پر کھڑی ہے۔کیا یہ اس نبی کی پیدائش کی خوشی منانے کا طریق ہے کہ ہر شریف آدمی خوفزدہ ہے اور حکومت قانون نافذ کرنے کے لئے ، لاء اینڈ آرڈر کے لئے تحفظات لئے ہوئے ہے۔ہمارے پیارے آقا کے نام پر احمدیوں کے خلاف دریدہ دہنی کرنا اور مغلظات بکنا تو روز کا معمول ہے لیکن آج کے دن کی خوشی میں آج اس میں بھی شدت پیدا ہو گئی ہے۔اپنے زعم میں یہ لوگ اس عمل سے اس عظیم نبی کی عزت و وقار کو بلند کر رہے ہیں۔چند دن ہوئے پاکستان کے کئی شہروں میں جو گھیراؤ ہوا، محاصرہ ہوا، دھرنے ہوئے، اس نے ہر شریف شہری کو پریشان کر دیا تھا۔کاروبار زندگی معطل ہو گیا تھا۔کوئی مریض ہسپتال نہیں جا سکتا تھا۔سکول بند کر دیئے گئے بلکہ دکانیں تک بند کر دی گئیں۔کوئی شخص جس کے گھر میں کھانے پینے کا سامان نہیں تھا اپنے بچوں کے لئے کھانے پینے کا سامان نہیں لا سکتا تھا۔کروڑوں اور اربوں روپوں کا قوم کو مالی نقصان بھی ہوا اور یہ سب کچھ ان نام نہاد علماء کے حب رسول کے نعرے کی وجہ سے ہوا۔وہ رسول جو رحمۃ للعالمین ہے جس نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ راستوں کے حقوق ادا کرو۔آپ نے فرمایا کہ بازاروں میں شور و غوغا کرنے سے بچو۔(صحيح البخارى كتاب البيوع باب كراهية السخب في السوق حديث 2125) آپ نے فرمایا کہ راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔جب صحابہ نے کہا کہ ہم بیٹھنے پر مجبور ہیں کیونکہ اس زمانے میں کاروباری جگہیں تو نہیں تھیں، دفاتر نہیں ہوتے تھے کہ وہاں بیٹھ کر کاروباری معاملات طے کریں اس لئے بازاروں میں بیٹھ کر ، راستوں میں بیٹھ کر طے کئے جاتے تھے۔آپ نے اس بات کو سن کر فرمایا کہ پھر راستوں کے حق ادا کرو۔جب عرض کیا گیا کہ یار سول اللہ ! راستوں کے حق کیا ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نظریں