خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 579
خطبات مسرور جلد 15 579 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 نومبر 2016 کئی سال گزرنے کے بعد ایک روز ٹی وی پر مختلف چینل بدل بدل کر دیکھ رہا تھا کہ ایم ٹی اے لگ گیا جس پر اس وقت پروگرام الحوار المباشر لگا ہوا تھا جس میں وفات مسیح علیہ السلام کے بارے میں بات ہو رہی تھی۔میں پڑھا لکھا تو تھا نہیں، نہ ہی دینی لحاظ سے کوئی خاص علم تھا اس لئے ان امور کو میں بہت حیرت سے دیکھنے لگا۔کچھ دیر کے بعد شریف عودہ صاحب نے اس پروگرام میں کہا کہ ابھی ہم ایک وقفہ لیتے ہیں جس میں حضرت مسیح موعود اور امام مہدی علیہ السلام کا قصیدہ سنتے ہیں۔قصیدے کے ساتھ ایک شخص کی تصویر بھی دکھائی جارہی تھی جو میرے لئے کسی حیرانی سے کم نہ تھی۔یہ بعینہ اس شخص کی تصویر تھی جسے میں نے دوسری رؤیا میں دیکھا تھا اور مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اس حقیقت کے روشن ہو جانے کے بعد میں نے کسی سے اس بارے میں بات نہ کی اور اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر چپ چاپ ایم ٹی اے دیکھتارہا۔ایک ماہ کے بعد میں نے اپنی اہلیہ سے پوچھا کہ اس جماعت کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ اس نے کہا کہ میری رائے میں یہ جماعت سچی اور حقیقی ہے۔اس کے بعد میں نے اسے اپنی اس رؤیا کی تفصیل بتائی جس میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا تھا اور مجھے رویا میں بتایا گیا تھا کہ یہ رسول اللہ ہیں۔کیونکہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی عاشق اور غلام صادق تھے۔اس لئے بعض دفعہ جو خواب میں دیکھتے تھے تو مطلب یہی تھا کہ آپ کا آنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ ہے اور یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔کہتے ہیں کہ ہم آٹھ ماہ تک ایم ٹی اے دیکھتے رہے لیکن ابھی تک بیعت نہ کی تھی۔ایک روز میری بیوی نے مجھے کہا کہ کیا تم بیعت کرنے کے لئے تیار نہیں ہو ؟ میں نے کہا کیوں نہیں۔دو ہفتے بعد میری اہلیہ نے دوبارہ مجھ سے پوچھا کہ کیا تم بیعت کے لئے تیار نہیں ؟ میں نے پھر وہی جواب دیا کہ کیوں نہیں۔میں تیار ہوں۔کہنے لگی اب اگر تم بیعت کرنے نہ گئے تو میں اکیلی چلی جاؤں گی۔چنانچہ اہلیہ کی اس دوٹوک بات کے بعد میں نے افراد جماعت سے رابطہ کیا اور ہم دونوں نے بیعت فارم پر کر دیا۔تو بعض دفعہ عورتیں بھی مردوں کے لئے جرآت دلانے کا اور فوری ہدایت کا باعث بن جاتی ہیں۔آئیوری کوسٹ سے ہمارے مبلغ باسط صاحب لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں کچالو (Kouchalo) کے وفد نے درخواست کی کہ ہمارے ہاں بھی تبلیغ کی جائے۔اگلے روز ایک وفد کے ہمراہ متعلقہ گاؤں پہنچے اور بعد نماز عشاء تبلیغ کا پروگرام شروع ہوا۔رات دس بجے تبلیغ شروع ہوئی اور اس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ صبح تین بجے تک جاری رہا۔اس پروگرام میں مسلمان عیسائی اور مشرک لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔(لوگ سمجھتے ہیں کہ افریقن یو نہی قبول کر لیتے ہیں۔پانچ چھ گھنٹے یہ سلسلہ جاری رہا اور پھر وہ سوال بھی کرتے ہیں۔) کہتے ہیں گاؤں کے چیف مسٹر جماندے (Diomande) نے بھی سارا وقت تبلیغ سنی اور اللہ کے فضل سے اس کے نتیجہ میں اس وقت