خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 578 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 578

خطبات مسرور جلد 15 578 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 نومبر 2016 سی لڑکی بھی سکول کا یونیفارم پہنے ہوئے آجاتی ہے اور تمام محافظ دو قطاریں بنا کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور اس لڑکی کا استقبال کرتے ہیں۔کہتے ہیں میں اس وقت تک خوابوں پر یقین نہ رکھتا تھا۔شیماء نامی بچی کا بھی اس رویا میں آنا میرے اس خیال کو تقویت دیتا تھا کہ یہ محض اضغاث احلام ہے یعنی یو نہی خواب آگئی ہے۔بعد میں پتا چلا کہ اس بچی کی رؤیا میں موجود گی مجھے اس رؤیا اور اس کے بعد کی رؤیا کی صداقت پر یقین دلانے کے لئے تھی۔بہر حال کہتے ہیں کہ میں نے اس خواب پر کوئی دھیان نہیں دیا۔نہ ہی کسی سے اس بارے میں کوئی ذکر کیا۔مجھے یقین بھی نہیں تھا اور مجھے یہ بھی تھا کہ یہ بچی کا آنا تو اس طرح ہی ہے جس طرح مجھے کوئی غلط قسم کی خواب آگئی ہے۔اس لئے ذکر کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔لیکن ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ میں نے ایک اور رؤیا دیکھا جو بڑی حد تک پہلی رؤیا سے ملتا جلتا تھا۔میں نے ایک گندمی رنگ والے شخص کو دیکھا۔میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو مجھے بتایا گیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔آپ کچھ دیر کے بعد وفات پاگئے اور آپ کی تدفین ہو گئی۔اس کے بعد دیکھا کہ چاندی کے سکوں کے ایک بڑے ڈھیر سے لوگ بالٹیاں بھر بھر کے آپ کی قبر پر ڈالتے جارہے ہیں۔میں نے حسب عادت اس رؤیا کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی کیونکہ خوابوں پر یقین نہیں تھا، نہ ہی اس کے بارے میں کسی سے بات کی۔لیکن مذکورہ بالا دونوں خوابوں نے مجھے ایک بات کے بارے میں سوچنے پر مجبور ضرور کر دیا۔وہ یہ تھی کہ میں نے دونوں خوابوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا لیکن دونوں خوابوں میں دیکھی جانے والی شخصیات مختلف تھیں۔میں اکثر سوچتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل تو ایک ہی ہے۔پھر اگر میری خواہیں سچی ہیں تو ہر خواب میں آپ کا حلیہ مختلف کیسے ہو سکتا ہے ؟ کہتے ہیں کچھ دنوں کے بعد جب میں ایک ٹک شاپ میں تھا جہاں میں کام کرتا تھا تو کتابوں کی جھاڑ پونچھ کا کام کر رہا تھا اور پرانے اخبارات اور مجلات کو ترتیب سے رکھ رہا تھا کہ ایک اخبار کے صفحہ پر ایک تصویر دیکھ کر میں سکتے میں آگیا۔یہ ایک بچی کی تصویر تھی۔یہ کوئی عام بچی نہ تھی بلکہ شیماء نامی وہی بچی تھی جسے میں نے چند روز قبل خواب میں دیکھا تھا۔پڑھا لکھانہ ہونے کی وجہ سے میں نے اپنے بعض دوستوں سے اس تصویر کی کہانی پوچھی تو مجھے پتا چلا کہ یہ بچی کچھ سال پہلے دہشتگردی کی ایک کارروائی میں ماری گئی۔میں چونکہ پڑھا لکھا نہ تھا، نہ ہی اخبار اور ٹی وی پر خبروں سے کوئی لگاؤ تھا۔اس لئے مجھے اس حادثے کی کوئی خبر نہ ہوئی۔نہ ہی میں نے اس کے بارے میں پہلے کبھی سنا تھا۔لیکن شیماء کی تصویر دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ میرا پہلا خواب سچا تھا اور اس بچی کا خواب میں آنا مجھے اس رویا کی صداقت پر یقین دلانے کے لئے تھا۔اس واقعہ کے بعد یہ بھی یقین ہو گیا کہ پہلے رویا کی طرح دوسرا خواب بھی ضرور سچا ہے لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اگر دوسرا خواب بھی سچا ہے تو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف حلیے سے کیا مراد ہے؟