خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 577 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 577

خطبات مسرور جلد 15 577 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 نومبر 2016 مِنَ اللَّهِ آتَيْتُ وَ مَا افْتَرَيْتُ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى یعنی خدا کی قسم! میں خدا کی طرف سے آیا ہوں نہ کہ میں نے کوئی افترا کیا ہے۔یقینا افترا کرنے والا خائب و خاسر رہتا ہے۔یہ الفاظ سنتے ہی میں نے بے اختیار ہو کر کہا کہ یہ کسی بچے شخص کا کلام ہے۔یقینا یہ شخص اپنے دعوے میں سچا ہے اور یہی مسیح موعود اور امام مہدی ہے۔اقتباس کے دوران ہی جب دوبارہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دکھائی گئی تو اب کی بار اس کو دیکھ کر میں وہیں ٹھٹھک کر رہ گئی کیونکہ یہ وہی شخص تھا جسے قبل ازیں میں کشفی حالت میں دیکھ چکی تھی۔جب میں نے خدا تعالیٰ سے رو رو کر دعائیں کرتے ہوئے عرض کیا کہ خدایا آج تیر ا صحیح دین کہاں ہے اور آج کس جماعت کو تیری تائید حاصل ہے ؟ اُس وقت یہی شخص میرے ساتھ ہمدردی کرنے کے لئے آیا تھا اور اسے دیکھ کر میں نے دل میں کہا تھا کہ نہ جانے یہ شخص کون ہے۔اب ٹی وی پر وہی تصویر دیکھ کر مجھے اپنا کشف اور اس کی تعبیر بھی سمجھ آگئی۔خدا تعالیٰ نے مجھے اس وقت بتایا تھا کہ یہ شخص ہے جس کی جماعت کو خدائی تائید حاصل ہے اور یہی خدا تعالیٰ کے سچے دین کی نمائندہ جماعت ہے۔کہتی ہیں میں نے روتے ہوئے اس تصویر کو مخاطب ہو کر کہا کہ آج تُو ہی اسلام کا دفاع کر رہا ہے۔تُو عیسائیوں کے مزاعم کارڈ کر رہا ہے۔تو ہی سچا مسیح و مہدی ہے۔میں تیری تصدیق کرتی ہوں اور تیری بیعت کرتی ہوں۔حالانکہ اس وقت مجھے علم بھی نہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنی ضروری ہے۔میں نے اپنے قریبی لوگوں کو اس چینل اور جماعت کے بارے میں بتایا تو اکثر لوگوں نے میری بات کو سنجیدگی سے نہ لیا تا ہم میری بہن اور خالہ نے متعدد ایام ایم ٹی اے دیکھنے کے بعد بیعت کرنے کا فیصلہ کر لیا اور پھر بعد میں میری والدہ، بھائی اور دیگر دو بہنوں نے بھی بیعت کر لی۔ان کا نام ہے غنی العجان۔پھر مصر کے ایک دوست سعید ر خا صاحب ہیں۔کہتے ہیں کہ احمدیت کے ساتھ تعارف ہونے سے کچھ عرصہ پہلے میں نے رویا میں خود کو ایک وسیع میدان میں دیکھا۔جہاں ایک نہایت خوبصورت خیمہ لگا ہوا تھا جس کے باہر کئی لوگ اس کی حفاظت پر مامور تھے۔ان محافظوں میں سے ایک نے مجھ سے کہا کہ تم یہاں کیسے آگئے؟ میں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم لیکن آپ بتائیں کہ اس خیمہ میں کون ہے؟ اس محافظ نے کہا کہ اس خیمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔یہ سنتے ہی مجھے بے انتہا خوشی ہوئی اور ساتھ شدید خوف بھی طاری ہو گیا کیونکہ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں اس عظیم الشان جگہ تک کیسے پہنچ گیا جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں۔اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نہایت خوبصورت اور دل نشیں آواز آتی ہے۔آپ فرماتے ہیں تم میری عزت تکریم کر رہے ہو لیکن شیماء کو کیوں چھوڑ آئے ہو۔تیار ہو جاؤ کیونکہ وہ آرہی ہے۔اس وقت خیمہ کا دروازہ کھلتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آسمانی رنگ کی رداء اوڑھے باہر تشریف لاتے ہیں۔دوسری جانب سے شیماء نامی ایک چھوٹی