خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 575 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 575

خطبات مسرور جلد 15 575 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 نومبر 2016 سے اپنے آپ کو اس پاکیزہ جماعت کے قابل نہ سمجھتا تھا اور اس مقام تک پہنچنے کی راہوں سے نا آشنا تھا۔لہذا میں نے اپنے اس دوست سے کہا کہ مجھے بعض احمدیوں سے ملوا دو۔اس نے اپنے گھر پر ہی چند احمدیوں کے ساتھ ملاقات کا بند و بست کر لیا۔یہ نیک دوست آئے جن کے ساتھ بیٹھ کر مجھے روحانی ارتقاء کے ذرائع میں بات کر کے یوں محسوس ہوا کہ جیسے میری روحانی پیاس کی تسکین ہونے لگی ہے۔چونکہ مجھے رویا صالحہ وغیرہ کی بناء پر یہ یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے ضائع نہیں کرے گا اور ضرور مجھے ہدایت دے گا۔لہذا یہ سوچ کر میں نے استخارہ کرنا شروع کیا۔میں اپنے کام کے سلسلہ میں دمشق میں تھا جب کہ میری بیوی حلب میں دیگر اہل خانہ کے ساتھ رہتی تھی۔میں نے استخارہ شروع کرنے کے بعد اپنی بیوی کو فون کر کے کہا کہ اس عرصہ میں اگر کوئی خواب دیکھو تو مجھے ضرور بتانا۔کہتے ہیں کہ کچھ دنوں کے بعد آنے والی ایک رات میرے لئے لیلتہ القدر ثابت ہوئی جس میں میں نے ایک نہایت عظیم رؤیا دیکھا۔میں نے اپنے ایک نیک و پارسا رشتہ دار کو خواب میں دیکھا اس نے مجھے ایک ورق دیتے ہوئے کہا کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔میں نے پورے شوق سے اسے بسرعت کھولا تو اس میں لکھا تھا " السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔" میں بیدار ہوا تو بہت خوش تھا اور میری زبان پر یہ آیت کریمہ جاری تھی کہ اُدْخُلُوهَا بِسَلَامٍ آمِنِین۔کہ ان میں سلامتی کے ساتھ بے خوف و خطر داخل ہو جاؤ۔کہتے ہیں یہ جماعت میں داخل ہونے کے لئے ایک واضح پیغام تھا۔گو یہ رویا تو آنے والے امام مہدی اور مسیح موعود کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچانے کی طرف بھی اشارہ کر رہاتھا لیکن اس وقت مجھے اس بات کا علم نہ تھا۔بہر حال مجھے یقین تھا کہ یہ میرے استخارہ کا جواب ہے اور اس وجہ سے پھر میں نے بیعت کر لی۔پھر سیریا کی ایک خاتون ہیں وہ اپنی بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ احمدیت کے بارے میں جاننے سے قبل میں اور میری بہن ایک جماعت کو سچا سمجھ کر اس میں شامل ہوئے لیکن بعد میں پتا چلا کہ اس جماعت نے تو شریعت کے نام پر اپنی ہی شریعت بنائی ہوئی ہے۔اس کے بعد میں نے خدا تعالیٰ سے رو رو کر دعائیں کیں اور عرض کی کہ خدایا مجھے بتا کہ آج تیرا صحیح دین کہاں ہے اور آج کس جماعت کو تیری تائیدیں حاصل ہیں۔کئی دن تک یہ دعا کرنے کے بعد ایک روز مجھے ایسے لگا جیسے کوئی عظیم الشان نور میرے جسم میں داخل ہو گیا ہے۔یہ صورت حال دیکھ کر کہتی ہیں کہ میں نے اپنی دعائیں اور تیز کر دیں اور شدت بکا کی وجہ سے میری آواز حلق میں اٹکی جاتی تھی۔ایسی حالت میں میں نے دیکھا کہ ایک شخص میرے ساتھ آکر کھڑا ہو گیا ہے اور اس کیفیت میں مجھے یہی محسوس ہوا کہ وہ میرے ساتھ ہمدردی کرنے کے لئے آیا ہے۔میں نے اسے دیکھ کر دل میں کہا کہ یہ شخص کون ہے لیکن مجھے اس کا کوئی جواب نہ ملا۔اگلے روز پھر میں بہت روئی یہاں تک کہ میری ہچکی بندھ گئی۔اس وقت پھر مجھ پر وہی کیفیت طاری ہو گئی اور میں نے دوبارہ اس شخص کو اپنے ساتھ دیکھا۔تیسری بار پھر ویسا ہی ہوا تو میں نے بآواز بلند